غیر قانونی مبینہ فنڈنگ: نشریاتی ادارے، صحافیوں کے گھروں پر بھارتی پولیس کے چھاپے

انسداد دہشت گردی کا مقدمہ، مودی سرکار پر تنقید اور چین کی حمایت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی پولیس نے صحافیوں کے گھروں اور نیوز سائٹس کے مختلف دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ بھارتی حکام کا الزام ہے کہ یہ صحافی اور ان کی ویب سائٹس چین سے فنڈز لے کر بھارت کے خلاف ایسی خبریں سامنے لاتی ہیں جو بھارتی مفادات کے حق میں نہیں۔

بھارت جہاں نئے عام انتخابات اب چند ماہ کے فاصلے پر ہیں میڈیا سے بھارت سرکار کو بہت شکایات ہیں۔ اسی طرح بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے بھی بعض صحافیوں کو مودی سرکار کے بھونپو کہہ کر ان کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

بھارتی حکام کی طرف سے نیوز ویپ سائٹس کے دفاتر پر چھاپے بی بی سی کے دفاتر پر چند ماہ قبل ایسی ہی کارروائیوں کے بعد مارے گئے ہیں۔
کچھ ماہ قبل بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بھی حکام کے غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

میڈیا ہاؤسز پر تازہ چھاپوں کا نشانہ بننے والوں میں، نیوز کلک بھی شامل ہے جو 2009 سے کام کر رہا ہے۔ نیوز کلک ان چند میڈیا ویب سائٹ میں سے ایک ہے جو وزیر اعظم مودی اور ان کی سرکار پر تنقید کرتی ہیں۔

ایسی کئی ویب سائٹ بھی بھارتی سکیورٹی حکام نے اپنے چھاپوں کی زد پر لیا ہے جن کے خلاف مالی بے ضابطگی کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

مودی سرکار کی میڈیا کے بارے میں ان کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ کہ بھارت میں میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں کی کام کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ ادارے انتباہ کر رہے ہیں کہ بھارت میں صحافتی آزادی خطرے میں ہے۔

ویب سائٹ کے خلاف بھارتی حکام نے 17 اگست کو اس وقت مقدمہ درج کیا تھا جب نیو یارک ٹائمز میں اس ویب سائٹ کے بارے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی۔

نیو یارک کی رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ ایک امریکی کھرب پتی سے فنڈز لئے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ یہ فنڈز چین کے حق میں پراپیگنڈا کرنے کے لئے حاصل کئے گئے ہیں۔

نیوز کلک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ تاہم بھارتی سکیورٹی حکام نے نیوز سائٹ کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں