’اپنوں کے لیے حرام غیروں کے لیے حلال‘ طالبان وزارت ثقافت کی ٹویٹ پر نیا ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان میں حکمران طالبان کی خواتین کے حوالے سے پالیسی واضح ہے جس میں طالبان کی طرف سے خواتین پرکئی طرح کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ مگر طالبان کی وزارت ثقافت کے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ جس میں غیرملکی خواتین سیاحوں کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے اس ٹویٹ کے بعد طالبان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

اگست 2021ء کے آخر میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا ہے۔ ان پر ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اورخواتین کو سیاحتی مقامات اور پارکوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔

رواں سال اگست کے آخر میں طالبان حکومت کے وزیر شیخ خالد محمد حنفی نے مذہبی اسکالرز اور سکیورٹی فورسز پر زور دیا تھا کہ وہ خواتین کو وسطی صوبے بامیان میں واقع امیر نیشنل پارک میں جانے سے مکمل طور پر روکیں۔ انہوں نے صوبے کے دورے کے دوران اپنے اس مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے "اخلاقی بدعنوانی اور خواتین اور لڑکیوں کی قانونی حجاب پہننے میں ناکامی" کے ذریعے درست قرار دیا۔

تاہم انتہا پسند تحریک کی حکومت کی وزارت ثقافت و اطلاعات کی جانب سے شائع ہونے والی ایک ٹویٹ نے تنقید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔

وزارت نے’ایکس‘ پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے اکاؤنٹ پرغیر ملکی سیاحوں کے ملک کے دورے کی تصویر شائع کی، جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکا، جرمنی، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے گیارہ سیاحوں نے جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں ملک کے جنوب میں صوبہ ہلمند کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔

خواتین کے چہروں کو چھپا دیا گیا تھا

تاہم وزارت نے اپنے اکاؤنٹ پر شائع کی گئی تصاویر میں خواتین سیاحوں کے چہروں کو بلر کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحوں نے طالبان کی طرف سے ملک میں لائی گئی امن وامان کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

طالبان خواتین کے پارکوں اور تفریحی مقامات میں جانے کے سخت خلاف ہیں اور خواتین کی تصاویر کی سوشل میڈیا پر اشاعت پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں نے وزارت ثقافت واطلاعات کے ’ایکس‘ پیج پر شائع کی گئی غیرملکی خواتین کی تصاویر پر چُپ سادھ رکھی ہے۔

دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان دوغلی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے اپنے ملک کی خواتین پر تعلیم اور ملازمت سمیت کئی طرح کی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں اور دوسری طرف طالبان حکومت غیرملکی خاتون سیاحوں کی مہمان نوازی کررہے ہیں۔

کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے غیرملکی خواتین کو سیاحت کی اجازت دے رہے ہیں۔ جن چیزوں کی وہ غیرملکی خواتین کو اجازت دے رہے ہیں اپنے ملک کی خواتین پر ان کے حصول پر پابندی عاید ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ طالبان کی پالیسی دوغلی ہے، غیرملکی خواتین کے لیے افغانستان میں سیر سپاٹا ’حلال‘ ہے اور افغان خواتین کے لیے ’حرام‘ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں