انقرہ میں بم دھماکہ کرنے والے شام سے آئے تھے: ترک وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تُرک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ اتوار کو انقرہ میں وزارت داخلہ کے ہیڈ کواٹرز پر حملے میں ملوث افراد شام سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں ’پی کے کے‘ اور ’وائی پی جے‘ کے تمام بنیادی ڈھانچے اور زیر استعمال سہولیات کے ساتھ ساتھ پاور پوائنٹس بھی ہمارے جائز اہداف بن گئے ہیں۔

فیدان نے خبردار کیا کہ"میں تینوں فریقوں کو کردستان ورکرز پارٹی اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے زیر کنٹرول ان تنصیبات سے دور رہنے کی سفارش کرتا ہوں۔ حملے پر ہماری مسلح افواج کا ردعمل بہت سخت اور درست ہو گا"۔

هاكان فيدان
هاكان فيدان

اسی تناظر میں ترکیہ کی وزارت داخلہ نے حملے کے دوسرے مجرم کردستان ورکرز پارٹی کے رکن اوزکان شاہین کی شناخت کا اعلان کیا ہے۔

وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ سکیورٹی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اس کے آخری عناصر کو ختم نہیں کر دیا جاتا"۔

حملہ آوروں کی شناخت

ترکیہ کی وزارت داخلہ نے اس سے قبل اس حملے کے پہلے مجرم کی شناخت ظاہر کی تھی، جسے حسن اوگوز کے نام سے پہچانا گیا تھا۔ اس کا عرفی نام "کنیور ایردال" تھا جو ورکرز پارٹی کا رکن تھا۔

انقرہ دھماکے کا مقام: رائیٹرز
انقرہ دھماکے کا مقام: رائیٹرز

یہ امر قابل ذکر ہے کہ انقرہ میں ترکیہ کی وزارت داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے داخلی دروازے کے سامنے گذشتہ اتوار کی صبح دو افراد کی طرف سے ایک چھوٹی کمرشل کار میں حملہ کیا گیا۔

حملہ آوروں میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جب کہ سکیورٹی فورسز دوسرے کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو ترک سکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوگئے تھے۔

کردستان ورکرز پارٹی نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں