سعودی عرب کا اپنے شہریوں پر سوئٹزرلینڈ میں نقاب سے متعلق قانون کے احترام پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے جنیوا میں اپنے شہریوں سے حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں نافذ کیے گئے "نقاب پر پابندی" کے قوانین کی پابندی کرنے کی اپیل کی ہے۔

جنیوا میں قونصل خانے نے "ایکس" پلیٹ فارم کے ذریعے سوئس پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کو ایک پوسٹ میں لکھا کہ "جنیوا میں قونصلیٹ جنرل نوٹ کرتا ہے کہ سوئس پارلیمنٹ نے چہرہ ڈھانپنے کے خلاف نئے وفاقی قانون کی منظوری دی ہے۔ اس میں عوامی مقامات پر چہرہ (نقاب پر پابندی کا اقدام) شامل ہے۔ سعودی عرب اپنے شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ نقاب پر پابندی سے متعلق قانون کااحترام کریں۔

اکتوبر 2022 میں سوئس حکومت نے ایک نیا مسودہ قانون پارلیمنٹ کو بھیجا جس میں چہرہ مکمل یا جزوی طور پر ڈھانپنے پر 990 سوئس فرانک (990 ڈالر) جرمانہ عائد کیا گیا۔

اس قانون کی تشہیر قدامت پسند سوئس پیپلز پارٹی نے کی تھی۔ جب کہ ذرائع ابلاغ بتاتے ہیں کہ ملک کے مسلمانوں نے اس کی منظوری پر بحث کے دوران اس پر تنقید کی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے شائع کردہ سرکاری عبوری نتائج کے مطابق متنازع تجویز کو 51.21 فیصد ووٹرز اور ملک کے 26 چھاؤنیوں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی۔

اس قانون میں واضح طور پر مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے، لیکن سوئس اور دیگر میڈیا میں اسلامی نقاب اور برقع کا بڑے پیمانے پر حوالہ دیا گیا ہے۔

پابندی صرف نقاب تک محدود نہیں ہے جسے اسلامی "برقع" کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں اسٹیڈیم اور عوامی مقامات پر کھیلوں کے شائقین کے ماسک بھی شامل ہیں۔ اسلامی نقاب کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے جو اکثر سیاہ ہوتا ہے اور اسے کچھ مسلمان خواتین اور یروشلم میں رہنے والے حریدی یہودی فرقہ پہنتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں