سوڈان میں جاری انسانی بحران میں سات ملین افراد امداد کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایسے وقت میں جب سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز[آر ایس ایف] کے درمیان جنگ گذشتہ 15 اپریل سے جاری ہے، سماجی ترقی کے وزیر احمد آدم بخیت نے انکشاف کیا ہے کہ 70 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ جنگ میں ہونے والی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ملک میں انسانی صورتحال انتہائی نازک ہے۔

چار لاکھ 80 ہزار ٹن

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہمیں موجودہ دور میں 480,000 ٹن انسانی امداد کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک سے آنے والی تمام انسانی امداد نامزد ایجنسیوں کی جانچ پڑتال سے مشروط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی امداد ریپڈ سپورٹ فورسز تک نہیں پہنچی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے 640,000 سوڈانی مہاجرین چاڈ، مصر اور جنوبی سوڈان چلے گئے۔

"ایک آفت سے دوسری آفت تک"

قبل ازیں منگل کو اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ سوڈان میں جنگ سے بچنے کے لیے جنوبی سوڈان سے اپنے ملک واپس آنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کو "ہنگامی حالات اور بھوک" کا سامنا ہے، جن میں سے 90 فیصد خاندان کھانے کے بغیر دن گزار رہے ہیں۔

جوبا میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر میری ایلین میک گرارٹی نے کہا کہ "ہم سوڈان میں خطرے سے بھاگتے ہوئے خاندانوں کو ایک آفت سے دوسری آفت میں منتقل ہوتے دیکھ رہے ہیں"۔

تقریباً 7500 ہلاک

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے سوڈانی بالخصوص دارالحکومت خرطوم میں بجلی کی بندش، اشیائے ضروریہ تک رسائی کی قلت اور مشکل حالات زندگی سے دوچار ہیں۔ لوٹ مار اور چوری ڈکیتی کی وارداتوں نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اس تنازعے کی وجہ سے خرطوم اور دیگر شہروں میں 50 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر گئے۔اس سے ایک انسانی بحران پیدا ہوا، جب کہ مقامی طبی ٹیموں نے ہیضہ اور ڈینگی بخار کے پھیلاؤ سے خبردار کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سوڈان میں جاری بحران کے نتیجے میں اب تک 7500 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں