پاکستان افغان شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ واپس لے: افغان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دینے پر تنقید کی ہے۔ طالبان کے ایک سینئیر ذمہ دار کے مطابق پاکستان کے اس اعلان سے زیادہ تر افغانی متاثر ہوں۔

کابل حکام نے مزید کہا، مہاجرین کی وجہ سے پاکستان۔میں سکیورٹی کے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ تاہم پاکستان کے اس فیصلے سے زیادہ تر افغانی ہی متاثر ہوں گے۔ اس لئے حکومت پاکستان یہ اعلان واپس لے۔

واضح رہے پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ سنگین واقعآت کے تناظر میں ایک اعلی سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ضروری قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم غیر ملکی یکم نومبر تک خود ہی پاکستان سے چلے جائیں۔ بصورت دیگر انہیں کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان 1979 سے افغان مہاجرین مقیم ہیں۔ جو افغانستان پر سوویت حملے کے باعث ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تھے۔ بعد ازاں 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کی وجہ سے بھی لاکھوں مہاجرین دوبارہ پاکستان آ گئے۔ مجموعی طور پر 44 سال گذرنے کے بعد بھی ان افغانیوں کی پاکستان میں تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔

ان کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں افغانی پاکستان میں غیر کسی قانونی دستاویز یا پاسپورٹ کے بغیر مقیم ہیں۔ اس وقت پاکستان میں اندراج شدہ مہاجرین کی تعداد پندرہ لاکھ اور غیر قانونی مہاجرین کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے۔

پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپیکس کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں رواں سال کے دوران دہشت گردی کے 24 واقعات میں سے 14 واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔

طالبان کے ذمہ دار نے افغان مہاجرین کے بارے میں پاکستان کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے اس اعلان پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ کیونکہ افغان مہاجرین پاکستان میں موجود سکیورٹی مسائل کا باعث نہیں ہیں۔

ترجمان طالبان نے مزید کہا پاکستان ان مہاجرین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے۔ ادھر پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا 2021 سے دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان واقعات میں زیادہ کالعدم ٹی ٹی پی ملوث بتائی جاتی ہے۔

پچھلے جمعہ کے روز دو مختلف واقعات میں 60 پاکستانی لقمہ اجل بنے ہیں۔ یہ دونوں واقعات انتہائی سنگین نوعیت کے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں