غنی حکومت کے بھیجے ہوئے 82 افغان کیڈٹ بھارتی فوجی اکیڈمیوں سے فارغ

کوئی نہیں جانتا ، ان کی کھپت کہاں ہوگی اور یہ کس کے خلاف لڑیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے دور میں بھارتی ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے لیے آنے والے بیسیوں جوانسال افغان فوجی کیڈتوں کے باضابطہ فوجی افسر بننے کے بعد مستقبل کیا ہو گا ، یہ سوال نئے فوجی افسر بننے والے افغانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ہی نہیں خود بھارت اور امریکہ کے لیے بھی غیر اہم نہیں ہے۔

طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے والے بھارت اور امریکہ کے لیے بھی مستقبل میں ان 82 افغان فوجی افسروں کو کب ، کیسے اور کہاں بروئے کار لایا جائے اور ان پچھڑے ہوئے افغان فوجی افسروں کو کس کے خلاف کیسے استعمال کیا جائے، کہاں رکھا جائے ؟ بظاہر اشرف غنی حکومت کی باقیات کی صورت میں 82موجود ان 82 افغان فوجی افسروں کا مستقبل ہوا میں معلق ہے۔

بھارت میں فوجی تربیت پانے والے افغان فوجی افسروں کی تربیت بلا شبہ طلبان کے خلاف لڑنے کے لیے اور پہاڑی علاقوں میں جنگ کے حوالے سے بطور خاص اہم رہی۔ لیکن جب ان کی تربیت بھارتی فوجی افسروں کی سب سے قدیمی تربیت گاہ ڈیرہ دون و دیگر اہم تربیتی مقامات اور ملٹری اکیڈ میز میں ہونا شروع ہوئی تو افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ، امریکی فوج نے افغانستان سے انخلا قبول کر لیا اور صدر اشرف غنی نے اپنی حکومت کے بعض اعلی عہدے داروں کے ساتھ ملک سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی تھی۔

البتہ 2 اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بھی بھارت کی نریندر مودی سرکار نے ان افغان کیڈیٹس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ۔ حتی کہ عمومی ڈگریوں کے بعد خالصتا فوجی تربیت کے بھارتی اداروں میں بھی ان 82 کیڈٹس کی تربیت کا سلسلہ بغیر کسی تعطل یا وقفے کے بھارتی حکومت نے جاری رہنے دیا۔ اس لیے اس امر کا انکار مشکل ہے کہ ان افغان فوجی افسروں کی بھارتی ملٹری اکیڈمی کی تربیت کابل میں طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی شروع کی گئی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بھارتی فوج نے ان افغان فوجی کیڈٹوں کو تربیت دینے اور ان کے اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کس مقصد کے تحت کیا۔ آیا یہ فیصلہ اکیلے بھارت اور اس کی سرکار یا فوج کی سطح پر کیا گیا یا اس فیصلے میں کوئی اور ملک بھی شریک تھا۔ حالانکہ یہ واضح تھا کہ ان کیڈٹوں کو طالبان کے خلاف لڑائی کی خاطر تربیت کے لیے بھارت بھجنے والی اشرف غنی حکومت خود ختم ہو چکی ہے۔

بلاشبہ بھارت میں افغان فوجی کیڈٹوں اور افسروں کی تربیت کی روایت پرانی ہے اور یہ سلسلہ 1948 سے چلا آرہا ہے۔ لیکن ماضی میں افغان کیڈٹس کی تربیت کی فیس اور اخراجات افغان حکومت برداشت کرتی تھی۔ اب یہ سرمایہ بھارت کو اپنے قیمتی زرمبادلہ سے لگانا تھا۔ مگر کس کے لیے اور کس کے خلاف۔ فوجی افسروں کا یہ دستہ کس ملک کی ضروریات کے تحت تربیتی مراحل سے گذارا گیا ؟ کس نے ان کے اخراجات برداشت کیے اور اب مکمل تربیت دینے کے بعد انہیں بظاہر کھلی منڈی میں کیوں لاوارث کیوں چھوڑ دیا گیا ہے ؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق فوجی تربیت مکمل کر کے لیفٹننٹ کا عہدے تک پہنچنے والے 82 افغانوں میں سے کئی احمد شاہ مسعود کے علاقے پنج شیر سے متعلق ہیں جو طالبان کی مخالفت اور ان سے لڑائی میں ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ان 82 میں سے کوئی ایک بھی فوجی افسر ایسا نہیں جو طالبان کے خلاف لڑنے کا بھر پور جوش اور جذبہ نہ رکھتا ہو۔

ان اٖفغان فوجیوں نے ڈیرہ دون کے علاوہ پونا میں قائم نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور آفیسرز ٹرینیگ اکیڈمی چنائے میں بھی تربیت پائی ہے۔ انہی میں ایک اجمل ہڈمین نامی افغان فوجی افسر ہے۔ جس نے میڈیا رپورٹ میں کہا ۔ فوجی افسر کے طور پر یونیفارم پہننا ان کے لیے ایک ایسی انسپائریشن تھی جو انہوں نے اپنے اجداد سے پائی تھی۔ یقینا ان کے لیے فوجی افسر بننا اور یہ یونفارم پہننا بڑے عزت و فخر کی بات ہے۔

ان میں ایک بے فوج کا فوجی افسر پرویز امنہ بخشی ہے۔ اس کی عمر 23 سال ہے یہ بھارت کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی سے نومبر 2022 میں فارغ ہوا ہے۔ لیکن ابھی اس کی تربیت مکمل نہیں ہو ئی ہے۔ پنجشیر سے تعلق رکھنےوالے بخشی کو سٹوڈنٹ ویزا چاہیے تاکہ وہ امریکہ یا یورپ جاسکے۔

عصمت اللہ اصیل کی عمر 27 سال ہے۔ یہ بھی افغانی کیڈٹ ہے ۔ جس نے ڈیرہ دون سے گریجوایشن کی ہے۔ یہ اور اس طرح کے درجنوں افغان افسر اب کب اور کہاں اور کس کے لیے لڑیں گے یا ان کا نشانہ کس پر کھلے گا ابھی کہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا ان کے مطابق ان کا مستقبل غیر واضح ہے۔۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں