کمی پورا کرنے کیلئے واشنگٹن ضبط شدہ ایرانی ہتھیار کیف بھیجنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سنٹرل کمانڈ نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے ایرانی گولہ بارود کے تقریباً 1.1 ملین راؤنڈ یوکرین کو منتقل کیے ہیں۔ یہ گولہ بارود گزشتہ سال کے آخر میں ایرانی پاسداران انقلاب سے یمن میں حوثیوں کو منتقل کرنے کے دوران ضبط کیا گیا تھا۔

سی این این کے مطابق امریکی حکام نے ماضی میں انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن ہزاروں ضبط کیے گئے ایرانی ہتھیار اور گولہ بارود یوکرین کو منتقل کرے گا۔ اس قدم سے یوکرین کی فوج میں آلات کی شدید قلت کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یوکرین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مزید فنڈز اور سامان بھیجنے کا انتظار کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ ان ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے کس قانونی فریم ورک پر انحصار کرے گا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کا مطالبہ ہے کہ ضبط کیے گئے ہتھیاروں کو تلف یا ذخیرہ کیا جائے۔

امریکی حکام کا کہنا تھا امریکی انتظامیہ کئی مہینوں سے اس بات کا مطالعہ کر رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کو قانونی طور پر یوکرین کے باشندوں کو کیسے بھیجا جائے۔ یہ ہتھیار امریکی سینٹرل کمانڈ کی تنصیبات میں محفوظ ہیں۔

واضح رہے یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوج کے پاس جوابی حملہ کرنے کے لیے ہتھیاروں اور فضائی دفاع کے ذرائع کی کمی ہے۔

زیلنسکی نے آج ’’ سکائی ٹی جی 24 ‘‘ چیینل کی نشریات میں کہا کہ ہمارا جوابی حملہ قدم بہ قدم جاری ہے۔ ہم دشمن کو پسپا کرنے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ مسئلہ بارودی سرنگوں، میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کی کمی کا ہے۔

دوسری طرف خبر رساں ادارے ’’ اے این ایس اے‘‘نے رپورٹ کیا کہ اطالوی وزیر دفاع کروسیٹو نے کیف کو مستقبل میں ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں ایک سوال کا ہچکچاتے ہوئے جواب دیا کہ ہم اس بارے میں بات نہیں کر سکتے۔ فی الحال امدادی پیکجز درخواستوں کی بنیاد پر اور صلاحیتوں کی بنیاد پر رجسٹر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان درخواستوں کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں