زیر حراست انسانی حقوق کارکن کو نوبل انعام دیے جانے پر ایران چراغ پا

’’نرگس محمدی کو امن کا نوبیل ایوارڈ سیاسی رنگ بازی ہے جسے ایران اپنے سیاسی معاملات میں مداخلت سمجھتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایرانی وزارت خارجہ نے سماجی سرگرمیوں اور حکومت کے خلاف احتجاج کی پاداش میں قید کی سزا پانے والی انسانی حقوق کی خاتون وکیل نرگس محمدی کو امن کا نوبیل انعام دینے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ایران کےاندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسیوں کا عکاس ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ نوبیل امن کمیٹی نے یہ انعام "ایک ایسی خاتون کو دیا ہے جو قانون کی بار بار خلاف ورزیوں اور مجرمانہ کارروائیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "نوبل امن انعام کمیٹی کا فیصلہ بعض یورپی ممالک کی ایران مخالف مداخلت کی پالیسیوں کے مطابق ایک سیاسی اقدام ہے"۔

ایک بیان میں کنعانی نے نرگس محمدی کو امن کا نوبیل انعام دینے کو "تعصب اور ایوارڈ کی سیاست کرنے کا ایک قدم" قرار دیا۔

نرگس محمدی کا شمار ایرانی انسانی حقوق کے نامور کارکنوں میں ہوتا ہے۔ وہ خواتین کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں اور سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ بھی کرتی آئی ہیں۔

انسانی حقوق کے دفاع سے وابستہ ایک تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق نرگس اب تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید ہیں۔ انہیں قید سمیت 12مختلف نوعیت کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ ان میں 31 سال قید اور 154 کوڑوں کی سزا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں