سعودی عرب کا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف حالیہ برسوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

وزارت نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "مملکت متعدد فلسطینی دھڑوں اور اسرائیلی قابض افواج کے درمیان ہونے والی غیر معمولی پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہی ہے۔"

بیان میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ مملکت نے "اسرائیلی تسلط کے نتیجے میں صورتحال کے [خراب ہونے] کے نتائج کے بارے میں بارہا خبردار کیا ہے اور ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے اور ان کے مقدس [مقامات] خلاف منظم اشتعال انگیزیوں سے بھی خبردار کیا ہے۔"

سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے اپنے مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ وہ "اپنی ذمہ داریاں سنبھالے اور ایک پر امن اور قابلِ اعتماد عمل کو بحال کرے" تاکہ دو ریاستی حل کو اس انداز میں حاصل کیا جا سکے جو خطے میں امن و سلامتی لائے اور شہریوں کی حفاظت کرے۔

ہفتے کے روز غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں غیر معمولی دراندازی کی جس کی بنا پر اسرائیل نے پورے خطے کے رہائشیوں کو گھروں کے اندر رہنے کا حکم دیا۔

مغربی کنارے میں شدید لڑائی کے دوران راکٹ داغے گئے جہاں اس سال اسرائیلی فوج کے حملوں میں تقریباً 200 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ چھاپوں کا مقصد عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانا ہے لیکن پتھراؤ کرنے والے مظاہرین اور تشدد میں شامل افراد بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی اہداف پر فلسطینیوں کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ کشیدگی غزہ تک بھی پھیل گئی ہے جہاں حماس سے منسلک کارکنوں نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔ ستمبر کے آخر میں بین الاقوامی ثالثی کے بعد ان مظاہروں کو روک دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں