لبنانی فوج نے 124 شامیوں کی سمندر کے راستے ہجرت کی کوشش ناکام بنا دی

شمالی لبنان سے یورپ کی طرف غیر قانونی امیگریشن کا سلسلہ بدستور جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی فوج نے لبنانی ساحلوں سے شامی شہریت کے 124 غیر قانونی تارکین وطن کی سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ بحری گشت نے طرابلس کے ساحل سے غیر قانونی طور پر لوگوں کو سمندر میں سمگل کرنے کے آپریشن کو ناکام بنا دیا اور شامی شہریت کے 124 غیر قانونی تارکین وطن کو بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ ان تارکین میں آٹھ خواتین اور 24 بچے بھی شامل تھے اور یہ ایک کشتی پر سوار تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ فوج غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔ شمالی لبنان سے غیر قانونی امیگریشن کا رجحان حالیہ برسوں میں زیادہ ہوگیا ہے۔ بحری کشتیاں اکثر قبرص پہنچتی ہیں۔ یہ یورپی یونین کی رکن ریاست ہے اور لبنان کے ساحل سے صرف 175 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

عالمی بینک کے مطابق لبنان دنیا کے بدترین معاشی بحرانوں میں سے ایک کی زد میں ہے۔ لبنان اب غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک لانچنگ پیڈ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ لبنانی شہری اب شامی اور فلسطینی پناہ گزینوں میں شامل ہو رہے ہیں اور سمندر کے راستے یورپ پہنچنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ . بیروت کا کہنا ہے کہ لبنان اس وقت تقریباً 20 لاکھ شامیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔

یاد رہے ستمبر 2022 کے آخر میں لبنان سے آنے والی ایک کشتی شام کے ساحل پر درجنوں غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ ڈوب گئی تھی ۔ اس واقعہ میں 100 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں