سعودی عرب کی کوپ 28 سے قبل دبئی میں ہفتہ موسمیات کی میزبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی حکومت اتوار سے دارالحکومت ریاض میں ایک ہفتہ طویل موسمیاتی تقریب کی میزبانی کرنے والی ہے، جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے تعاون سے ہو گی۔

یہ تقریب جو پالیسی سازوں، نجی شعبے کی فرمز، مہم چلانے والے نوجوانوں اور موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری کے شعبے میں دیگر اہم متعلقین کو مجتمع کرے گی، بلیوارڈ ریاض سٹی میں منعقد ہوگی۔

نومبر کے آخر سے دبئی میں اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس کوپ 28 سے قبل ’ایم ای این اے ہفتۂ موسمیات‘ منعقد ہو رہا ہے۔ سعودی تقریب ایک ایسے اہم اور نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب زیادہ تر ممالک نے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کو ایک مسئلہ کے طور پر شناخت کیا اور اس کے بعد سے عالمی حدت کے اثرات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے کہ یہ 2030 اور 2050 کے درمیان زیادہ سے زیادہ 1.5 ڈگری سیلسیس تک رہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے ایک بیان کے مطابق "ہفتے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کی پیچیدگیوں، چیلنجوں اور مواقع سے نمٹنا اور اجتماعی طور پر ایسے خیالات پیش کرنا ہے جو بالآخر نومبر میں سی او پی 28 میں موسمیاتی 'اسٹاک ٹیک' کا حصہ سمجھے جائیں۔"

2015 کے پیرس معاہدے کے مطابق اسٹاک ٹیک عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کی مقدار بتاتا ہے جو عالمی حدت کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے سے منسلک ہے۔

جمعرات تک جاری رہنے والی ریاض کی تقریب کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے چار پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تقسیم کیا گیا ہے: توانائی کے نظام اور صنعت؛ شہر، شہری اور دیہی بستیاں، انفراسٹرکچر اور ذرائع نقل و حرکت؛ زمین، سمندر، خوراک اور پانی؛ اور معاشرے، صحت، معاش، اور معیشتیں۔

یہ موسمیات کے علاقائی ہفتوں کا حصہ ہے جو افریقہ، لاطینی امریکہ اور جزائر غرب الہند؛ ایشیا-بحر الکاہل؛ اور شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ میں ہر سال منعقد ہوتا ہے۔

تقریب کا آغاز سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، کوپ 28 کے نامزد صدر سلطان الجابر، مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن اسٹیل کے بنیادی نکات سے ہوگا۔

تیل پیدا کرنے والے سرکردہ ممالک اور برآمد کنندگان میں سے ایک سعودی عرب ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے 2030 تک اپنی 50 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع توانائی سے پیدا کرنے کے مقصد کے ساتھ 2060 تک خالص صفر کے ہدف کا وعدہ کیا ہے۔

توقع ہے کہ مملکت ہفتہ موسمیات کی تقریب میں ایسے منصوبوں اور مفاہمت ناموں کا اعلان کرے گی جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اس کے قومی منصوبے کے حصوں کو رسمی شکل دیں گے۔

2021 میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی گرین انیشیٹو کے آغاز کا اعلان کیا جو کاربن اخراج کو کم کرنے، اس کے بعد آئندہ عشروں میں 10 بلین درختوں کے پیمانے پر شجرکاری اور اپنی زمین اور سمندر کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور شرقِ اوسط کا وسیع خطہ اور شمالی افریقہ سطحِ سمندر میں اضافے، خشک سالی اور گرم ترموسم کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں۔ جیسا کہ العربیہ نے ستمبر میں رپورٹ کیا یہ ماحول پر اثرات کے علاوہ زندگی کے مہنگے اخراجات میں براہِ راست حصہ ڈال کر معیارِ زندگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں