سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے ’کہ ان کا ملک غیر مسلح فلسطینیوں کو کسی بھی طرح سے نشانہ بنانے کو مسترد کرتا ہے‘۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور ’تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صورتحال کو پرسکون کرنے اور مزید تشدد سے بچنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ان خیالات کا اظہار شہزادہ فیصل بن فرحان نے امریکہ، مصر، قطر، اردن کے ہم منصبوں اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ سے ٹیلی فون پر فلسطین سے متعلق صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔

خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں غزہ اور اس کے گرد ونواح کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو فوری طور پر روکنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر بات چیت کی گئی۔

مصری وزیر خارجہ سامح شکری اور اردن کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ ڈاکٹر ایمن الصفدی سے رابطے کے دوران غزہ اور اس کے گرد ونواح کی صورتحال میں تازہ ترین پیش رفت اور کشیدگی روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات تیز کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے ٹیلی فون پر رابطے میں غزہ کی صورتحال اور کشیدگی روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی محکہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلی فونک رابطے میں فلسطینی اتھارٹی پر مغربی کنارے میں امن و استحکام بحال کرنے پر زور دیا‘۔

ترجمان نے کہا کہ ’بلینکن نے حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ’دہشت گرد حملوں‘ کی مذمت کا اعادہ کا اور خطے کی تمام قیادت پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کی مذمت کریں۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق محمود عباس نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کے فلسطینیوں کے ساتھ ’ناانصافی‘ اسرائیل کے ساتھ تنازع کو ’دھماکہ خیز صورتحال‘ کی طرف لے جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں