اسرائیل کے لیے فوری امریکی امداد، طیارہ بردار بحری جہاز روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کو اضافی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ حماس کے حملوں کے بعد اضافی امریکی فوجی امداد اسرائیل کے لیے جا رہی ہے۔ اس میں سے زیادہ حصہ آنے والے دنوں میں اسرائیل پہنچ جائے گا۔
امریکی ایوان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بائیڈن اور نیتن یاہو نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ کہ اسرائیل کے دشمنوں کو یہ سمجھنے سے روکا جائے کہ وہ جمود کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں یا اسے استعمال کرسکتے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو کہا کہ امریکہ اسرائیل کے قریب طیارہ بردار بحری جہاز کے سٹرائیک گروپ کو منتقل کر رہا ہے۔ اس گروپ میں فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کی حمایت کرنے والے بحری جہاز شامل ہیں۔
لائیڈ آسٹن نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل کو گولہ بارود فراہم کرے گا۔ اس کی سکیورٹی امداد آج سے شروع ہوجائے گی۔ پینٹاگون خطے میں لڑاکا طیارے بھی بھیجے گا۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ بلینکن نے کہا تھا کہ امریکہ اضافی فوجی امداد کے لیے اسرائیل کی درخواستوں کا مطالعہ کر رہا ہے اور اس حوالے سے آج یعنی اتوار کو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ اسرائیل میں بہت سے امریکی بھی مارے گئے ہیں۔ امریکیوں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ہم اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ اتوار کو اسرائیل کی حکومت نے سرکاری طور پر حالت جنگ میں داخل ہونے کا اعلان کردیا۔ 6 اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے پہلی مرتبہ "ریاستی جنگ" کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے حماس نے ہفتہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے ہزاروں راکٹ برسا کر اسرائیل پر حملہ کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں