امریکا نے ایران کو اسرائیل کے بحران میں ملوث ہونے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فوجی طیارے میں سوار امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤن نے ایران کو اسرائیل کے بحران میں ملوث ہونے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ تنازعہ پھیلے۔

"عدم مداخلت"

ایران کے لیے ان کے پیغام کے بارے میں پوچھے جانے پر براؤن نے پیر کو کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اس معاملے میں "عدم مداخلت" کی پالیسی پر چلے۔

انھوں نے اپنے ساتھ برسلز جانے والے صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک ٹھوس پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ پھیلے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایران اس پیغام کو سمجھے"۔

یہ انتباہ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کی جانب سے "طوفان الاقصیٰ" حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی دھڑوں کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں کہا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر حملے میں فلسطینیوں کی مدد کی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے "طوفان الاقصیٰ" حملے میں تہران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا اس کارروائی میں کوئی کردار نہیں۔

قبل ازیں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر فلسطینی عسکریت پسندوں کے حملوں میں معاونت کی تھی۔

کل اتوار کی شام ایک بیان میں ایرانی سفارت کارنے کہا کہ "فلسطینیوں کی طرف سے اٹھائے گئے ٹھوس اقدامات سات دہائیوں کے جابرانہ اسرائیلی قبضے اور ناجائز صہیونی حکومت کے گھناؤنے جرائم کے مقابلے میں ایک مکمل طور پر آئینی دفاع کا حصہ ہیں۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران "غیر متزلزل طور پر فلسطینی قوم کے نصب العین کی حمایت جاری رکھے گا لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی‘‘۔

"اسرائیل پر اپنی رسوائی چھپانے کی کوشش کا الزام "

ایرانی سفارت کار نے کہا کہ "حماس کے آپریشن کی کامیابی حیرت انگیز ہے جس نے اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی سب سے بڑی ناکامی کا ثبوت پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا "اسرائیلی اپنی ناکامی سےتوجہ ہٹانے کے لیے ایران پر الزام عاید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل اپنی شرمناک رسوائی اور شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کو اس کارروائی پر مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے"۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب کو "فلسطینی مزاحمتی گروپ کے ہاتھوں ان کی شکست کے بارے میں انٹیلی جنس سروسز میں جو رپورٹ دی جا رہی ہے اسے قبول کرنا بہت مشکل ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ ایران نے حماس اور اسلامی جہاد کی مالی اور عسکری امداد کو کبھی نہیں چھپاپا۔ تہران علانیہ فلسطینی عسکری گروپوں کی حمایت اور سرپرستی کرتا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے فلسطینی دھڑوں نے اسرائیلی علاقوں پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں اب تک ایک ہزار سے زائد اسرائیلی ہلاک جب کہ سات سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں