’’ہم مشرق وسطی میں کمزوری نہیں دکھا سکتے‘‘نیتن یاہو اور جو بائڈن کی ٹیلیفونک گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ اب غزہ میں زمینی کارروائی کرے۔ نیتن یاہو نے اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاکہ حماس کے حملے کا جواب دیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے امریکی صدر کو کہا کہ ہمیں غزہ کے اندر ضرور جانا ہے۔دوران گفتگو جو بائیڈن نے حماس کے ہاتھوں اسرائیلیوں کو یرغمال بنائے جانے پر بھی بات کی۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اب بات چیت کا موقع نہیں ہے۔ ہمیں اندر جانا ہی ہے۔ ہم مشرق وسطیٰ میں کمزوری نہیں دکھا سکتے۔اسرائیل کے پاس کوئی اور راستہ نہیں سوائے اس کے وہ حماس کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرے کہ ہمیں اپنے تحفظ کو بحال کرنا ہے۔

جو بائیڈن نے اس سلسلے میں ایسی کوئی مداخلت نہیں کی جو اسرائیلی پالیسی کے خلاف جاتی ہو۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے 3 لاکھ ان ریزرو فوجیوں کو بلا لیا ہے جن کو ماضی میں کبھی بھی اس طرح بلانے کی ضرورت نہیں پڑی اور یہ بھی لازمی ہوگیا کہ غزہ کا مکمل محاصرہ کرلیں۔ جو اسں بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ میں حماس کو ضرور شکست ہونی چاہیے۔

زمین پر فوج اتارنا اسرائیل کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا۔ اسرائیل دو دہائیوں کے درمیان اپنی فوج کو دو دفعہ غزہ سے واپس بلا چکا ہے اور اس نے ہمیشہ کوشش کی ہے وہ ہمیشہ کسی ایسے طویل مدت کے فوجی قیام سے گریز کرے جو اس کے قبضے کو ظاہر کرتا ہو۔

اسرائیلی حکام کی طرف سے ابھی تک کسی ایسے ارادے کی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر یہ ضرور زیر بحث آیا ہے کہ بالآخر یہ معاملہ کہاں تک جا سکتا زمین پر فوج اتارنا اسرائیل کے لیے ایک بڑا قدم ہوگا۔ گو مگو کے درمیان وہ اپنی فوج کو دو دو مرتبہ واپس بلا چکا ہے اور اس نے ہمیشہ کوشش کی ہے وہ ہمیشہ کسی ایسے طویل مدت کے فوجی قیام سے گزرے جو اس کے قبضے کو ظاہر کرتا ہو۔

ابھی تک انہوں نے کسی ایسے ارادے کی تصدیق مگر یہ ضرور زیر بحث آیا ہے کہ بالآخر بات کہاں تک جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں