ایردوآن کی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سرکاری ذریعے نےفرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے فلسطینی تحریک حماس کے ساتھ ہفتے کے روز یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا آغاز کیا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ "فی الحال یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ہابرترک ٹی وی چینل کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ فی الحال ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

حماس کی جانب سے ہفتے کے روز اسرائیل پر کیے جانے والے حملے کے بعد درجنوں غیر ملکی ہلاک، زخمی یا یرغمال بن گئے۔ ان میں سے زیادہ تر غزہ کی سرحد کے قریب جنوبی اسرائیل کے ایک صحرا میں ایک الیکٹرانک میوزک فیسٹیول میں شرکت کے دوران پکڑے گئے تھے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 250 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ترکیہ کے ایک سینییر اہلکار نے بدھ کو کہا کہ ترکیہ حماس کے زیر حراست شہریوں کو رہا کرنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

ہفتے کے آخر میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد انقرہ نے تنازعہ میں ثالثی کے لیے سفارتی کوشش شروع کی۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے بات چیت کا حکم دیا تھا۔

ترک صدر نے انقرہ کی ثالثی کی پیشکش کرنے اور اسرائیل فلسطین تنازعہ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اس ہفتے علاقائی طاقتوں کے رہ نماؤں کے ساتھ فون پر بات کی ہے۔

ذرائع نے مزید تفصیلات بتائے بغیر مزید کہا کہ ترکیہ حماس کے زیر حراست سول قیدیوں کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔ صدر ایردوآن کے حکم کی بنیاد پر متعلقہ ادارے حماس کے زیر حراست شہریوں کے حوالے سے کارروائی کر رہے ہیں"۔

اس سے قبل ایردوآن سمیت ترک سیاست دانوں نے حماس کے ارکان سے ملاقات کی تھی۔ لڑائی کے آغاز کے بعد سے تحریک کے ساتھ رابطے کے حوالے سے انقرہ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ترکیہ تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور حماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے۔ انقرہ بنیادی طور پر توانائی کے تعاون پر توجہ دے کر برسوں کی کشیدگی کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں