حماس کے حملے سے پہلے ہمیں اس کےاشارے ملے تھے: اسرائیلی فوج کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان پرتشدد تصادم کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی قابض فوج نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ اسے غزہ سے حماس کے حملے کے انٹیلی جنس اشارے ملے تھے مگر فوج نے ان پر توجہ نہیں دی۔

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ اس نے حماس کے ممکنہ حملے کے خطرے کو اہمیت نہیں دی اور یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ حماس اتنا تباہ کن حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے کہا کہ گذشتہ ہفتے کے حملے سے قبل انٹیلی جنس سگنلز موصول ہوئے تھے۔ ان حملوں کی وجہ سے 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں مزید کہا کہ "حملے سے چند گھنٹے قبل ایسے نشانات نظر آئے تھے اور انٹیلی جنس معلومات تھیں کہ حماس اسرائیل پر حملے کی تیاری کر رہی ہے لیکن ہمیں اس شدت کی نقل و حرکت کی کوئی سمجھ نہیں تھی۔"

ہاگری کا کہنا ہے کہ حملے کے اشارے ملے تھے وارننگ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ تمام تفصیلات کی چھان بین کی جائے گی اور اسرائیلی عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جائیں گی۔

متعلقہ سیاق و سباق میں اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ غزہ میں کسی زمینی دراندازی کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے تاہم اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج اس کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں فوج کی ناکامی اور اس طرح کے حملے کی توقع نہ رکھنے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ سے حملے سے چند گھنٹے قبل سنگین اشارے موجود تھے لیکن ان پر غور نہیں کیا گیا۔

جب کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے ملک کو مصر یا دیگر کی جانب سے کسی حملے یا بڑے واقعے کے امکان کے اشارے یا انتباہات موصول ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں