ضرورت پڑنے پر دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیج سکتے ہیں: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ مصر اور اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے محفوظ راہداری کھولنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

امریکی فوج کے کمانڈر نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کو ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ علاقائی اداکار اسرائیل میں حماس کی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آرمی کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤن نے برسلز میں نیٹو کے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ میں نے ایسے کوئی اشارے نہیں دیکھے کہ اسرائیل کو نقصان پہنچانے میں اضافی اداکار شریک ہوں گے۔

صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو نئی فوجی امداد بھیجتے ہوئے مشرقی بحیرہ روم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کا حکم دیا۔

براؤن نے مزید کہا کہ یہ ایک وجہ ہے جس نے ہمیں اپنی فورس کی تعیناتی کو ایڈجسٹ کرنے پر اکسایا۔ فورس کی تعیناتی کا مقصد نہ صرف اسرائیل کی حمایت کرنا بلکہ مستقبل میں کسی بھی ایسی کارروائی کو روکنا بھی ہے۔ براؤن کے ساتھ کھڑے امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے تنازع میں مداخلت کے نتائج کے بارے میں اسرائیل کے مخالفین کو بائیڈن کی تنبیہ کو دہرایا۔

آسٹن نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے، کسی بھی تنظیم کے لیے، ہر اس شخص کے لیے جو اسرائیل میں ہونے والے مصائب سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس تنازع کو بڑھانے کی کوشش کرے یا مزید خون بہانے کی کوشش کرے تو اس کے لیے ہمارے پاس صرف ایک لفظ ہے ’’ ایسا نہ کرو‘‘ ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں