مصر نے 3 روز پیشتر اسرائیل کو حملے کے خطرے سے خبردار کیا تھا: امریکی رکن کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی جانب سے ان الزامات کی تردید کے باوجود کہ قاہرہ نے حماس کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے روز کیے گئے اچانک حملے سے چند دن قبل اسرائیل کو خبردار کیا تھا، امریکی کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میکول نےاس دعوے کو دہرایا ہے۔

انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مصر نے حماس کی جانب سے سرحد پار سے کیے گئے مہلک حملے سے تین دن قبل اسرائیل کو تشدد کے امکان سے خبردار کیا تھا۔

انہوں نے کل بدھ کو مشرق وسطیٰ کے بحران کے بارے میں قانون سازوں کو بند کمرہ انٹیلی جنس بریفنگ کے بعد کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ مصر نے تین دن پہلے اسرائیلیوں کو اس طرح کے واقعے کے پیش آنے کے امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا"۔

ٹیکساس سے ریپبلکن رکن کانگریس نے مزید کہا کہ "میں بہت سے خفیہ معاملات میں نہیں جانا چاہتا، لیکن اسرائیل پر حملے کی پہلے سے وارننگ دے دی گئی تھی۔"

اسرائیل میں تنازعہ

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ "اس وقت جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ وارننگ کس حد تک یا کس سطح کی وضاحت تھی۔"

ان دعووں نے اسرائیل میں تنازعہ کو جنم دیا ہے۔عوامی حلقوں میں حماس کے حملے کی انٹیلی جنس ناکامی اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کی طرف سےعوام کو تحفظ کی فراہمی میں ناکامی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو نے اس سے قبل ان رپورٹوں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل کو پہلے سےاس طرح کی معلومات کی فراہمی سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔

مصرکی تردید

کل بدھ کے روز مصر نے باضابطہ طور پر اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے جنگ شروع ہونے سے 10 دن پہلے ایک بڑے آپریشن کے انتباہ کے بارے میں کہا گیا تھا۔

مصر کے ایک سرکاری ذریعے نے اعلان کیا کہ کچھ میڈیا نے تل ابیب کی جانب سے بڑے آپریشن کی وارننگ کے حوالے سے جو خبریں دی ہیں وہ سراسر غلط ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مصری موقف سب کو معلوم ہے۔ قاہرہ مسئلہ فلسطین کے اصولوں پر کاربند ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں