اسرائیل، حماس تنازعہ بڑھنے سے تجارت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے: ڈبلیو ٹی او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تجارت کی عالمی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل، حماس تنازعہ کے پھیلاؤ سے تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

عالمی بنک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مراکش میں موجود ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی سربراہ نگوزی اوکونجو آئیویلا نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اسرائیل-حماس تنازعہ جلد ختم ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ پورے خطے میں پھیل گیا تو پہلے سے کمزور عالمی تجارت پر اس کا گہرا اثرپڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تشدد تجارتی نمو کو روکنے والے عوامل میں اضافہ کر سکتا ہے، جس میں سود کی بلند شرح، چینی رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں مندی اور یوکرین میں روس کی جنگ کے اثرات شامل ہیں۔

مجھے امید ہے کہ جنگ کے یہ بادل جلد چھٹ جائیں گے۔ لیکن موجو دہ حالات حوالے کےسے ہمارا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ اگر یہ محاذ آرائی خطے میں پھیلی تو تجارت کے متاثر ہونے کے خدشات حقیقی ہیں۔ ان حالات میں ہر کوئی محتاط ہے اور بہتری کی امید کر رہا ہے۔

ڈبلیو ٹی او کی سربراہ نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال پہلے ہی تجارت میں ترقی کے مواقع کو کو محدود کر رہی ہے، لیکن اسرائیل اور غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والے گروپ حماس کے درمیان اچانک جنگ شروع ہونے سے یہ مزید بڑھ جائے گی۔

انکا کہنا تھا کہ اس بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا یہ پورے خطے میں مزید پھیلنے والے بحران میں بدل جائے گا جو عالمی اقتصادی ترقی پر بہت زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسے افق پر ایک سیاہ بادل سے تشبیہ دیتے ہوے امید ظاہر کی ہے کہ یہ بحرانی کیفیت جلد ختم ہو جائے گی۔

جنیوا میں قائم تجارتی ادارے نے گزشتہ ہفتے مسلسل افراط زر، بلند شرح سود، سست چینی معیشت اور یوکرین میں جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اس سال کیلئے عالمی اشیا کی تجارت کی شرح نمو میں پہلے ہی نصف حد تک کمی کردی تھی۔

ڈبلیو ٹی او نے حالیہ جائزہ کے مطابق سال 2023 میں تجارت کا حجم صرف 0.8 فیصد بڑھے گا جو کہ پہلے تخمینہ کےمطابق 1.7 فیصد کی متوقع سطح پر رکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں