اسرائیل نے ہمیں سر قلم کئے گئے فوجیوں کی تصاویر دکھائی تھیں: بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اسرائیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ہمیں گولیوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور فوجیوں کی تصاویر دکھائیں جن کے سر کٹے ہوئے تھے۔ حماس نے جو کچھ کیا اس نے ہمیں وہی سفاکی یاد دلا دی جس کو داعش نے بھی اپنایا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن جنوب میں بے گھر اسرائیلیوں کی مدد کے لیے کوششوں کو متحد کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ متحد ہے اور اس کے دکھ میں شریک ہے۔

بلینکن نے مزید کہا کہ میں نے اسرائیل میں ان امریکیوں کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جو حماس کے ہاتھوں مارے گئے یا یرغمال بنائے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شیر خوار بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے حماس کے ہاتھوں درجنوں بچوں کی ہلاکت کی تردید کے باوجود امریکی صدر بائیڈن نے بدھ کی شام یہودی رہنماؤں کے سامنے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے بچوں کی تصاویر دیکھی ہیں جن کے سر کٹے ہوئے تھے۔

بائیڈن کے بیانات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ امریکی صدر نے اپنے بیان کی بنیاد میڈیا رپورٹس اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ترجمان کے الزامات پر رکھی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا کہ بائیڈن اور دیگر امریکی حکام نے حماس کے ہاتھوں اسرائیلی بچوں کے سر قلم کیے جانے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی تھی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے کل وضاحت کی کہ وہ اس مرحلے پر ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے کہ حماس کے افراد نے ملک کے جنوب میں ایک کبوٹز پر 40 بچوں کو قتل کر دیا تھا۔

پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر ایک اسرائیلی سرکاری سرکاری اکاؤنٹ نے اسرائیلی چینل "i24 نیوز" کے نمائندے کا ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں اس نے کفار عزہ کی کبوٹز میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بات کی تھی۔ رپورٹر نے دعویٰ کیا کہ یہاں 40 بچوں کے قتل پر مشتمل خوفناک چیزیں ہوئی ہیں۔

تاہم اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد کے بارے میں ہم تصدیق نہیں کرسکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں