اسرائیل کا اپنے ہاں امریکی افواج کی تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو باور کرایا ہے امریکا اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے تناظر میں فوجیں تعینات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت بھی امریکی فوج کی تعیناتی کا "خیر مقدم نہیں کرے گی۔"

"ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں"

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ’’ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکی فوج اسرائیل میں تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور بالکل واضح طور پر اسرائیلی امریکی فوجیوں کو اس تنازع میں شامل نہیں دیکھنا چاہتے‘‘۔

یرغمالیوں کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے سمیت حماس کے زیر حراست امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کرتی۔

جان کربی کربی نے صحافیوں کی طرف سے حماس کے نمائندوں کی طرف سے قیدیوں کی رہائی پر یرغمالیوں کی واپسی پر امریکا کے ساتھ اتفاق کرنے کے بارے میں بیانات پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے بیانات نہیں دیکھ۔ اس لیے میں ان پر تبصرہ نہیں کروں گا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے جمعرات کی صبح تصدیق کی تھی کہ ان کا ملک حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اسرائیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "اسرائیلی حکومت نے ہمیں گولیوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور فوجیوں کی تصاویر دکھائیں جن کے سر کٹے ہوئے تھے۔ جو کچھ حماس نے کیا ہے وہ ’داعش‘ کا طرز عمل ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز سے جاری لڑائی میں اب تک 1,300 اسرائیلی اور 1500 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں