اسرائیل کے بعد بلینکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کا بھی دورہ کریں گے

اسرائیل حماس جنگ کے تناظر میں امریکی طیارہ بردار اور سفارتی مشن متحرک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر خارجہ امریکہ انٹونی بلینکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کا دورہ بھی کریں گے تاکہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز تل ابیب میں کہی ہے۔

بلینکن نے اسرائیل کا ہنگامی دورہ کیا ہے اور اسرائیل کی جنگی صورتحال میں پوزیشن کو سمجھتے ہوئے اسرائیلی ضروریات کا جائزہ لیا ہے۔

وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے تاکہ خطے میں کوئی غیر معمولی حالات سامنے نہ آ جائیں۔ ان کے دورے کے منصوبے میں سعودی عرب کے علاوہ قطر، مصر، متحدہ عرب امارات بطور خاص شامل ہیں۔

وہ خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشورہ کریں گے تاکہ اسرائیل اور حماس کے تصادم کو پھیلنے سے روکنے کی تدابیر بروئے کار لائی جا سکیں۔ حماس سے مغویان کو بحفاظت رہائی دلوائی جا سکے اور خطے میں پہلے سے جاری امریکی حکمت عملی کو کوئی نقصان نہ ہو۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق مغویان کی رہائی اور عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ پیش نظر ہے۔ بلینکن کے مشرق وسطی کے اگلے مرحلے کے دورے میں اس سلسلے میں میکانزم پر غور ہو گا۔ امریکی ترجمان کے مطابو وزیر خارجہ بلینکن علاقے میں اپنے پارٹنرز کو ساتھ ملائیں گے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی اسرائیل سے جڑے سمندر میں تعیناتی کا حکم دیا ہے تاکہ سویلین کا تحفظ کیا جا سکے۔ واضح رہے امریکہ پہلے ہی اسرائیل کو اس جنگ میں ہر ممکن مدد دینے کا اعلان کر چکا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز کہا تھا 'میڈیٹیرین سی' کے مشرقی حصے میں امریکی طیارہ بردار سٹرائیک گروپ حفاظت کے لئے پہنچ گیا ہے تاکہ کسی فریق کو غزہ اسرائیل جنگ کو پھیلانے کی کوشش سے روک سکے۔

تاہم بعد ازاں وائٹ ہاوس نے اس طیارہ برادر سٹرائیک گروپ کے بارے میں کہا تھا کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبے اور معمول کے مشن مطابق خطے میں پہنچا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے رپوٹرز سے کہا تھا کہ بلا شبہ اس اہم جہاز خطے میں اور قریب تر موجودگی بوقت ضرورت اہم ہو گی۔

امریکہ کے دفاع سے متعلق ایک سینئیر ذمہ دار نے اسی ہفتے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی ایران کے لیے ایک اشارہ ہو گا کہ امریکہ جنگ کا پھیلاو روکنے کے وہاں موجود ہے۔ یہ پھیلاؤ لبنان کی حزب اللہ اور ایران کی کسی بھی پراکسی کے لیے بھی پیغام ہو گا جو اسرائیل کے خلاف جنگ کا دوسرا محاذ کھولنے کی کوشش کرے گی۔

اس فوجی نقل وحرکت کے علاوہ العربیہ کی بدھ کے روز کی خبر کے مطابق مغویان سے متعلق امور امریکی صدر کے خصوصی نمائندے سٹیو گلن وزیر خارجہ انٹونی کے ساتھ ہی اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔

وہ اردن کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ اسی طرح قطر بھی مغویوں کی رہائی کے سلسلے میں فلسطینی جنگجووں کے ساتھ رابطہ کر چکا ہے۔ یہ قطر ہی ہے جہاں حماس کا سیاسی دفتر ہے اور قطر غزہ کے لیے کروڑوں ڈالر بھی دے چکا ہے۔ امریکہ ہر ایک سے رابطے میں ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں