امریکی وزیرخارجہ کے دورے کے بعد وزیر دفاع بھی اسرائیل پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کے اسرائیل کے دورے کے صرف 24 گھنٹے بعد امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بھی اسرائیل پہنچے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں سےغزہ میں حماس کے ساتھ جاری جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایمرجنسی حکومت سے ملاقات

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ لائیڈ آسٹن کا دورہ وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کے اسرائیل کے دورے کے اگلے دن ہو رہا ہے۔ اس دورے میں وہ اسرائیلی دفاع اور ہنگامی سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

"حماس کےحملے سے لا علم تھے"

آسٹن نے جمعرات کے روز برسلز میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکا کو "ابتدائی انتباہات یا اشارے" موصول نہیں ہوئے تھے کہ فلسطینی تحریک حماس بڑے پیمانے پر حملہ کرنے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں کوئی شرائط طے نہیں کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی فوج ایک پیشہ ور فوج ہے جس کی سربراہی ایک پیشہ ور قیادت کرتی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ان کی مہم کو نافذ کرنے کے لیے صحیح کام کریں گے‘‘۔

زمینی حملہ ممکن ہے

اسرائیل محصور فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی پر فضائی اور بحری حملے کے ساتھ زمینی حملہ بھی ممکن ہے۔

"جنگی طیاروں کی اسرائیل آمد "

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے خطے میں A10 جنگی طیاروں کے اسکواڈرن کی آمد کی تصدیق کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی وزراء سمیت دیگر ممالک کے عہدیدار اسرائیل کے دورے پر پہنچ رہے ہیں۔

غزہ کی 2.4 ملین آبادی کے خوف میں اضافہ ہو رہا ہے جو اب 15 سالوں میں پانچویں جنگ لڑ رہی ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ کا پانی، خوراک، ادویات، ایندھن اور بجلی بند کرنے کے فیصلے کے بعد گنجان آباد جنگ زدہ علاقے میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں