فلسطینیوں کی مصر کی طرف ہجرت سے متعلق سیسی کا واضح موقف آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فلسطینیوں کو مصر داخلے سے روکے جانے کی اطاعات کا واضح جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا غزہ کی پٹی پر جاری حملوں کے نتیجے میں آنے والے اور فرار ہونے والے فلسطینیوں کو قبول کرنے کے ارادے کے بارے میں جو باتیں گردش کر رہی ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ ہم فلسطینیوں کی مدد کرنے کو تیار ہیں تاہم ان کے اپنے ملک سے نکلنے کا مطلب مسئلہ فلسطین کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے جمعرات کی شام ملٹری کالج کے طلبہ کی گریجویشن تقریب کے دوران کہا کہ ان کا ملک 9 ملین افراد کی میزبانی کرتا ہے جو وہاں جاری بدامنی کی وجہ سے اپنے ملک سے بے گھر ہو چکے ہیں تاہم فلسطینیوں کے ساتھ صورتحال مختلف ہے۔ ان فلسطینیوں کو اپنے ملک میں ہی رہنا چاہیے۔ فلسطینیوں کو اپے مقصد اور سرزمین کو بچانے کے لیے ثابت قدمی جاری رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر کوئی غزہ کی پٹی کو طبی اور انسانی امداد فراہم کرنے کا خواہاں ہے۔ فلسطینیوں کے مصائب کو کم کرنے اور بحران کا حل تلاش کرنے اور کشیدگی سے بچنے کے لیے عرب، بین الاقوامی اور علاقائی کوششیں جاری ہیں۔ شہریوں اور بچوں کو تنازعات کے دائروں سے نکال کر مذاکرات کی میز پر بٹھایا جانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصر امن کا خواہاں ہے اور فلسطینی عوام کی صلاحیتوں کے تحفظ کا خواہاں ہے اور غزہ کی پٹی میں موجودہ کشیدگی پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ مصر خطے میں بغیر کسی پابندی اور شرائط کے امن کے قیام کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔

مصری صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مصر امن کا راستہ اختیار کرنے اور خونی راستے پر پھسلنے سے روکنے کے لیے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خونی راستہ اپنانے کی کی قیمت مزید بے گناہ لوگوں کو ادا کرنا پڑے گی اور اس کے نتائج پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

جمعرات کو برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ ایک فون کال کے دوران انہوں نے غزہ کی پٹی اور اس کے نواح میں جاری کشیدگی پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کو کم کرنے، شہریوں کی حفاظت اور اس کی روک تھام کے لیے کوششوں کو جاری رکھنے اور تیز کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں