ممکنہ حملے سے قبل امریکا کی مصر کے ساتھ غزہ محفوظ انخلاء پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی افواج کے ممکنہ بری حملے سے پہلےواشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تل ابیب اور قاہرہ کے ساتھ مل کر شہریوں کے غزہ انخلاء کے لیے ایک محفوظ راستہ کھولنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعے کے روز کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ غزہ سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

جان کربی
جان کربی

انہوں نے مزید کہا کہ "چاہے زمینی دراندازی ہو یا نہ ہو، ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ غزہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے محفوظ انخلاء کا کوئی راستہ نکلے ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ غزہ میں شہریوں کے لیے فوری طور پر نکل جانے کا موقع ہونا چاہیے۔"

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے آنے والے چند گھنٹوں کو بہت مشکل قرار دیا۔

قیدیوں کا کیا ہوگا؟

امریکی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ "حماس کے ہاں یرغمالیوں کے ہوتے ہوئے عسکریت پسندوں کےمضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کوششیں مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم یرغمالیوں کی صورت حال کے حوالے سے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے ہر گھنٹے رابطے میں ہیں اور ہم نے مہارت اور مشورے فراہم کیے ہیں، لیکن یقیناً وہ یرغمالیوں کی بازیابی کا طریقہ اچھی طرح جانتے ہیں"۔

قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیل میں حماس کے حملے کے بعد ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔

کل جمعرات کو کربی نے انکشاف کیا تھا کہ تقریباً 14 امریکی اب بھی لاپتہ ہیں۔

مصری وارننگ

مصر نے حالیہ دنوں میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو کھولنے کے مطالبات کے خلاف بار بار خبردار کیا ہے۔ مصر نے غزہ کی پٹی کو خالی کرنے اورفلسطینی آبادی کو ایک بار پھربے گھرکرنے کے سنگین نتائج سے خبر دارکیا۔

گذشتہ ہفتے حماس کی طرف سے اچانک فوجی حملے کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے عسکریت پسند تنظیم کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس نے غزہ کی پٹی کا سخت محاصرہ کر رکھا ہے، پانی، بجلی اور امدادی سامان بھی بند کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں