فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، ہندوستان میں بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ ہفتے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ کے طول و عرض میں سینکڑوں مقامات پر فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

غزہ میں قائم عسکریت پسند گروپ حماس کی طرف سے ہفتے کے روز اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد بمباری میں روزانہ سینکڑوں فلسطینی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ اسرائیلی بموں نے رہائشی عمارات، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں کم از کم 500 بچوں سمیت 1,530 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ت نے کہا کہ گنجان آباد انکلیو میں رہنے والے 2.3 ملین سے زیادہ لوگوں کے پاس اسرائیلی حملوں سے چھپنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

ساحلی ریاست کیرالہ کے تمام اضلاع میں مظاہرے ہوئے ہیں جہاں کئی عشروں سے فلسطین کی حمایت معاشرتی اور مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔

ضلع مالاپورم میں مظاہروں کو منظم کرنے والی ایک وکیل راہنا سبینہ نے عرب نیوز کو بتایا۔ "کیرالہ میں ہم نے ریاست گیر احتجاج کیا اور یہ 300 مراکز میں ہوا۔ ہم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔"

"فلسطینی عوام کو عشروں سے انصاف نہیں ملا ہے۔ اسرائیل سامراجی طاقتوں کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کر رہا ہے۔ ہم کسی بھی ملک کے کسی بھی سرزمین پر قبضے کی مخالفت کرتے ہیں۔"

بھارت کی جمہوری یوتھ فیڈریشن (ڈی وائے ایف آئی) کے سکریٹری سرین ساسی جنہوں نے کنر ضلع میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا، نے کہا کہ کیرالی باشندے فلسطینی قوم کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "ہماری تنظیم ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اس لیے ہم نے تمام اضلاع میں احتجاج کیا۔ ہزاروں نوجوانوں نے احتجاج میں ہمارا ساتھ دیا۔"

"کیرالہ بائیں بازو کی ریاست ہے؛ ہم ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ ہیں، ہمارا مؤقف ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ ہے۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ، ان کے غزہ اور دیگر مقامات پر آزادی اور سلامتی کے ساتھ رہنے کے حق کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ریاستی دارالحکومت تریویندرم میں صرف جمعرات کو 20 احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ایک ہیلتھ ورکر اور ڈی وائی ایف آئی کے رکن گائتھری بابو نے کہا کہ مقامی کارکن زمینی اور آن لائن دونوں جگہوں پر احتجاج میں شامل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر لکھتے رہے ہیں جو فلسطین میں متأثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے دستیاب ہیں۔"

"فلسطین ہمیشہ ظلم کا شکار رہا ہے۔ اس احتجاج کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ہم فلسطین میں مظلوموں، بچوں، خواتین کے ساتھ ہیں۔ جنگ ختم ہونی چاہیے تاکہ خواتین اور بچے فلسطین میں سانس لے سکیں۔"

ڈی وائی ایف آئی کے احتجاج کے شرکاء تمام معاشرتی طبقوں سے آئے تھے۔ بابو نے کہا کہ یہ مظاہرے جدوجہدِ آزادی کے لیے اس خطے کی اپنی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔

16 ویں صدی میں کیرالیوں نے پرتگالیوں کی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کی۔ دو صدیوں بعد کیرالہ برِصغیر پاک و ہند میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف ابتدائی بغاوتوں میں شامل تھا۔

بابو نے عرب نیوز کو بتایا، "کیرالہ اپنی تاریخ، میراث اور مزاحمت کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے ہے جو کیرالہ میں واقع ہوئی۔"

"یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی ناانصافی کے بارے میں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں