’’سعودی عرب غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو مسترد کرتا ہے‘‘

غزہ میں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے: بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں امریکی ہم منصب انٹونی بلینکن سے ملاقات میں سعودی عرب کی طرف سے غزہ سے فلسطینی عوام کی جبری نقل مکانی کے مطالبے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرنے اور شہریوں کو کسی بھی شکل میں نشانہ بنانے کی مذمت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے انسانی المیے کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے غزہ اور گرد ونواح میں فوری جنگ بندی، غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے، خوراک اور ادویہ جیسی فوری انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کام کرنے، شہریوں کے خلاف تشدد اور ہر قسم کی فوجی کشیدگی کو روکنے کے حوالے سے تیزی سے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہزادہ فیصل نے غزہ کی پٹی میں بڑھتے ہوئے تشدد کے سلسلے کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششوں کے لیے مملکت کے مطالبات کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے غزہ میں جنگ بندی کا نفاذ ضروری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد کو مسtقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ہماری پہلی ترجیح مزید انسانی المیہ کو ہونے سے روکنا اورامن مذاکرات کا آغاز کرانا ہے۔ کوشش ہے کہ کم از کم سیز فائر کرایا جائے‘۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا ’غزہ میں صورتحال بہت مشکل ہے اور وہاں ہونے والی انسانی نقصانات کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنا ہے تاکہ شہریوں تک امدادی کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے‘۔

انہوں نے کہا’یہ ایک حساس اوراہم معاملہ ہے۔ اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق حال کیا جانا ضروری ہے‘۔

غزہ میں امدادی اشیا کی ترسیل کے حوالے سے انہوں نے کہا’انسانی المیہ سے بہتر طور پرنمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے شہریوں کے لیے امدادی اشیا کی فراہمی کے امور کو یقینی بنایا جائے‘۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا’اسے مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ ہمیشہ دونوں فریقوں کے عمل کی قیمت عام شہریوں کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔ اس لیے فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے جلد کوئی ٹھوس راستہ تلاش کیا جانا ضروری ہے‘۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی فوجی کشیدگی کے درمیان شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

انٹونی بلینکن نے یہ ریمارکس سنیچر کو ریاض میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران دیے۔ اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں وزراء نے کہا کہ ان کے ممالک شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن لانے سمیت مشترکہ مفاد کے دیگر امور پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امداد کو غزہ میں شہریوں تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور محفوظ علاقے قائم کیے جانے چاہییں۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی مسلح گروپ حماس ’فلسطینی عوام اور ان کی امیدوں کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں