برطانیہ میں ’فلسطینی پرچم لہرانے‘ کو جرم قرار دینے کا مطالبہ

سینیئر پولیس سرابراہان کے نام برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمین کا خط، قانونی ماہرین کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک معروف برطانوی وکیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی جھنڈا لہرانا فلسطینی عوام کی بنیادی انسانی حقوق کے لیے جائز جدوجہد اور ان کے تسلیم شدہ ریاست میں رہنے کے حق کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے جسے جرم نہیں سمجھنا چاہیے۔

عرب نیوز کے مطابق برطانوی وکیل یاسین پٹیل نے کہا کہ ’فلسطینی جھنڈا لہرا کر آپ اپنی ہمدردی، دوسرا اپنے خدشات اور خیالات اور تیسرا فلسطینیوں اور مصیبت زدہ لوگوں کے لیے اپنی حمایت اُجاگر کر رہے ہیں اور یہ کسی قسم کا جرم نہیں ہے۔‘

برطانوی وکیل کے تبصرے رواں ہفتے کے اوائل میں برطانیہ کے وزیر داخلہ سویلا بریورمین کے سینیئر پولیس سرابراہان کو لکھے گئے خط کے جواب میں سامنے آئے ہیں۔

ہوم سکریٹری سویلا بریورمین  وزیر اعظم رشی سنک کے ساتھ جب وہ 12 اکتوبر 2023 کو لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پولیسنگ گول میز کی میزبانی کر رہے ہیں۔
ہوم سکریٹری سویلا بریورمین وزیر اعظم رشی سنک کے ساتھ جب وہ 12 اکتوبر 2023 کو لندن میں 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پولیسنگ گول میز کی میزبانی کر رہے ہیں۔

برطانوی وکیل کا یہ بیان برطانیہ کی وزیر داخلہ سویلا بریورمین کے سینیئر پولیس سرابراہان کو لکھے گئے خط کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی پرچم لہرانا یا مقبوضہ علاقے کی آزادی کا نعرہ لگانا جرم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے منگل کو اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’یہ صرف حماس کی حمایت میں نعرے نہیں ہیں جو تشویش کا باعث ہیں۔ میں چاہوں گا کہ پولیس اس بات پر غور کرے کہ آیا ’دریا سے سمندر فلسطین آزاد ہو گا‘ جیسے نعروں کو اسرائیل کو دنیا سے مٹتے ہوئے دیکھنے کی پُرتشدد خواہش کے اظہار کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ اور کیا ان نعروں کے کچھ مخصوص سیاق و سباق میں استعمال پر پبلک آرڈر ایکٹ کی شق 5 کا اطلاق نہیں ہوتا؟‘

برطانوی وکیل نے کہا کہ ’ان کے الفاظ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق پر گہرا اثر ڈالتے ہیں جو کہ بنیادی حقوق ہیں جن کے ہمارے پاس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تاکہ آپ کو یہ حق دے سکیں کہ آپ کے پاس جمہوریت ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر لوگ فلسطینی کاز کی حمایت کے لیے مارچ کے دوران اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ یہ برطانیہ کے قانون اور یورپی چارٹر کے تحت ایک بنیادی حق ہے۔‘

14 اکتوبر 2023 کو لندن میں فلسطینیوں کے حامی قومی مظاہرے کا ایک حصہ 'فلسطین کے لیے مارچ' کے دوران فلسطینی پرچم تھامے ایک مظاہرین پیکاڈیلی سرکس میں ایروس کے مجسمے پر چڑھ رہا ہے۔ (اے ایف پی)
14 اکتوبر 2023 کو لندن میں فلسطینیوں کے حامی قومی مظاہرے کا ایک حصہ 'فلسطین کے لیے مارچ' کے دوران فلسطینی پرچم تھامے ایک مظاہرین پیکاڈیلی سرکس میں ایروس کے مجسمے پر چڑھ رہا ہے۔ (اے ایف پی)

یاسمین پٹیل کے مطابق پبلک آرڈر کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اشتعال انگیزی کرے، قانون توڑے یا کسی کو تنگ کرنے کے لیے کوئی غیر قانونی کام کرے۔ یہاں جو الزام لگایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ پرچم لہرا کر آپ نے اسرائیلی شہریوں یا اسرائیل کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کو پریشان کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’حماس ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے لیکن فلسطینی پرچم حماس نہیں ہے اور نہ ہی حماس فلسطینی پرچم ہے۔‘

برطانیہ میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے قائم ’فریڈن آف الاقصیٰ‘ این جی او نے برطانوی وزیر داخلہ کے اس مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ در پردہ دھمکی اور اظہارِ رائے سے انکار ناقابلِ قبول ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں