حماس حملے کے جواب میں اسرائیلی ردعمل پر مصری صدر کی کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی ردعمل دفاع کے حق کے دائرے سے باہر نکل کیا۔ اسرائیلی اقدامات اب اجتماعی سزا کا روپ اختیار کر چکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن سے قاہرہ میں ملاقات کے دوران کیا۔ انٹونی حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد خطے کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں انہوں نے اردن، سعودی عرب سمیت مصر کا دورہ کیا ہے۔

مصری صدر نے کہا کہ غزہ کے خلاف بار بار پرتشدد کارروائیوں میں اب تک 12500 فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کے حل میں مزید تاخیر سے مزید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی کارروائی کے جواب میں اسرائیلی دفاع کے حق کے زمرے سے باہر نکل کر اب اجتماعی سزا کا روپ اختیار کر چکا ہے۔

مصری صدر نے کہا کہ سیاسی افق سے قضیہ فلسطین کے حل کے امکانات ختم ہونے کی وجہ سے غم وغصہ بڑھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہم غزہ کے معاملے کو طول دینے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہو گی کہ دوسرے فریق اس معاملے میں نہ کودیں۔‘‘

مصری صدر سیسی نے امریکی وزیر خارجہ سے اپنی ملاقات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا کہ ’’یہ حالیہ بحران کے حل میں مددگار ہو گی۔‘‘ انہوں نے صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پورے مشرق وسطیٰ پر امکانات پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کشیدگی کم کی جائے اور غزہ کی پٹی میں امدادی اشیاء لے جانے میں آسانی پیدا کی جائے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے بتایا کہ اس بات کی ضمانت دی جانی چاہئے کہ حماس جیسے حملے کی حالت دوبارہ پیدا نہ ہو تاکہ عام شہریوں کی سلامتی خطرے میں نہ پڑے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں حماس کے طریقہ کار کی بیخ کے لیے پیش قدمی کرنا ہو گی۔ ہم فلسطینیوں کے حقوق کی اہمیت سمجھتے ہیں لیکن ان کے حصول کے لئے حماس کا راستہ مناسب نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں