عام فلسطینیوں کا حماس کے حملوں سے تعلق نہیں، وہ حملوں کی مشکلات جھیل رہے ہیں:بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ بیشتر فلسطینی شہریوں کا حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ ان حملوں کی خواہ مخواہ تکالیف جھیل رہےہیں۔

امریکی صدر نےیہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے دورے پر ہیں جہاں وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بات چیت کررہے ہیں۔

بائیڈن نے اپنے "ایکس" اکاؤنٹ (سابقہ ٹویٹر) پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ فلسطینیوں کی بھاری اکثریت کا حماس کے حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فلسطینی ان حملوں کے نتیجے میں نقصان اٹھا رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے آج اتوار کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کی۔

بعد ازاں وہ مصر کے دورے پر قاہرہ پہنچےجہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔

ہفتے کے روز امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرقی بحیرہ روم میں ایک دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز کی امریکی تعیناتی کا اعلان کیا تاکہ "اسرائیل کے خلاف معاندانہ کارروائیوں یا اس جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔"

طیارہ بردار جہاز ڈوائٹ آئزن ہاور طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کے ساتھ آنے والے بحری جہازوں کے گروپ میں شامل ہو جائے گا، جسے واشنگٹن نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد خطے میں تعینات کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں