غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیں گے: ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی دھڑوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کے آٹھویں دن حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ہفتے کے روز کہا کہ 7 اکتوبر کی کارروائی بہت اہم تھی اور یہ اسرائیل کے خلاف ایک زلزلہ ثابت ہوئی۔ ٹیلی ویژن پر نشر اپنی تقریر میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہم فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر کرنے کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔

هنية: سنفشل خطط إسرائيل بتهجير الفلسطينيين من غزة
هنية: سنفشل خطط إسرائيل بتهجير الفلسطينيين من غزة
Advertisement

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے مصر کی طرف کوئی ہجرت نہیں ہو رہی۔ ہم مصر سے کہتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ غزہ میں ہی رہنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے کور فراہم کر رہا ہے۔

یاد رہے جمعہ کے روز شمالی غزہ سے انخلا کے لیے 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل نے اس مدت میں توسیع کردی ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرائی نے ’’ ایکس‘‘ پر بتایا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے باشندوں کو 10:00 اور 16:00 کے درمیان دو اہم سڑکوں سے گزرنے کی اجازت دے گی۔ اسرائیلی فوج کے ایک اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے اعلان کیا کہ جنوب کی طرف فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کا پتہ چلا ہے۔

غزہ کے ارد گرد فوجی فارمیشنز میں اسرائیلی ریزرو فوجی اگلے مرحلے کی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ غزہ کی پٹی کے چاروں طرف سے کسی بھی مشن کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

مصر اور اردن نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو انخلا پر مجبور کرنے کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عرب ملکوں کو تشویش ہے کہ اس لڑائی کی وجہ سے ان زمینوں سے مستقل بے گھر ہونے کی ایک نئی لہر پیدا ہوگی اور فلسطینی اس زمین سے بھی محروم ہوسکتے ہیں جس پر وہ اپنی ریاست تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے شمالی غزہ سے انخلاء کا مطلب ہے کہ پٹی کی تقریباً نصف آبادی کو پہلے سے ہی انتہائی گنجان علاقے میں منتقل کردیا جائے۔ یاد رہے غزہ کی آبادی لگ بھگ 2.2 ملین ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں