غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران ایم ایس این بی سی کے مسلمان اینکرز معطل

عرب نیوز کے مطابق ایم ایس این بی سی میں مسلمان اینکرز کی معطلی کے اس فیصلے سے براہ راست وابستہ دو ذرائع نے اس معطلی کی تصدیق کی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی نیوز نیٹ ورک ایم ایس این بی سی نے غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر مبینہ طور پر تین مسلمان اینکرز کے شوز روک دیے ہیں اور انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔

اس بات کی تصدیق عرب نیوز کو دو مختلف ذرائع سے ہوئی ہے۔

اس سے قبل سیمافور نامی نیوز ویب سائٹ نے خبر شائع کی تھی کہ اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد ایم ایس این بی سی کے مسلمان اینکر مہدی حسن، ایمن محی الدین اور علی ویلشی کو خاموشی سے اینکر کی کرسی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

مہدی حسن کا شو ایسٹرن ٹائم کے مطابق اتوار کی شب آٹھ بجے ایم ایس بی این سی پر اور جمعرات کو سٹریمنگ پلیٹ فارم پی کوک پر نشر ہوتا ہے لیکن جمعرات کی شب حزب معمول قسط نشر نہیں کی گئی۔

مہدی حسن کی ایکس پوسٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جان سے جانے والے فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

انہوں نے گذشتہ کئی گھنٹوں سے کئی پوسٹیں ری ٹوئٹ کی ہیں۔

مہدی حسن نے اپنی لکھی ہوئی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’یہ ناانصافی اور غیر قانونی ہونے سے ہٹ کر، غزہ کے باشندوں کو مصر اور دیگر عرب ممالک میں منتقل ہونے کا مشورہ دینا ایک بنیادی نسل پرستی ہے۔ لوگو! عرب سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ کسی نے بھی شمالی آئرش کیتھولکس کو فرانس صرف اس لیے منتقل ہونے کو نہیں کہا کیونکہ وہ تمام سفید فام یورپی ہیں۔‘

عرب نیوز کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ویلشی کے آنے والے ویک اینڈ شوز کا اینکر بھی بدل دیا گیا ہے۔

جبکہ ایم ایس این بی سی نے اس تاثر کی سخت مخالفت کی کہ ’حسن یا محی الدین کو کسی بھی طرح ایک طرف کیا جا رہا ہے۔‘

لیکن عرب نیوز کے مطابق ایم ایس این بی سی میں مسلمان اینکرز کی معطلی کے اس فیصلے سے براہ راست وابستہ دو ذرائع نے اس معطلی کی تصدیق کی ہے۔

عرب نیوز کے ذریعے کے مطابق: ’اس بارے میں بہت غیر واضح ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ لیکن موڈ ویسا ہی ہے جیسا نائن الیون کے بعد تھا اور آپ یا تو ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔‘

عرب نیوز نے ایم ایس این بی سی سے رابطہ کیا اور اپنی خبر پر اس کا ردعمل معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

علی ویلشی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی آخری پوسٹ میں بتایا تھا کہ وہ اسرائیل سے نکل گئے ہیں اور وہاں کی تازہ صورتحال جاننے کے لیے ان کے ساتھیوں کی کوریج کو دیکھتے رہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں