فرانس میں مقتول استاد کا سکول بم کی دھمکی کے بعد خالی کرا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شمالی فرانس کے شہر اراس میں ایک ہائی اسکول پیر کی صبح بم کی اطلاع کے بعد خالی کر دیا گیا جہاں ایک فرانسیسی ٹیچر کو جمعہ کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس امر کی اطلاع جائے وقوعہ پر موجود رائٹرز کے ایک فوٹوگرافر نے دی۔

جمعے کا حملہ جس نے حکومت کو فرانس کو اعلیٰ ترین سکیورٹی الرٹ پر رکھنے پر آمادہ کیا، اسرائیل کی جانب سے حماس کے مہلک حملے کے جواب میں غزہ پر ہزاروں فضائی حملے کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔

اگرچہ لائسی گیمبیٹا ہائی اسکول میں پیر کے روز کلاسز کا کوئی شیڈول نہیں تھا لیکن اس کے دروازے شاگردوں اور عملے کے لیے استاد ڈومینیک برنارڈ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کھلے تھے۔ وہ ایک 20 سالہ شخص کے حملے میں مارے گئے تھے جس کی صدر ایمانوئل میکرون نے "وحشیانہ اسلامی دہشت گردی" کے طور پر مذمت کی تھی۔

میکرون نے پیر کے اوائل میں طلباء اور اسکول کے عملے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام پوسٹ کیا: "اگر میں آپ سے بات کر رہا ہوں تو یہ آپ کو یقین دلانے کے لیے ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔"

"ہم ہمیشہ اندھی نفرت کا مقابلہ علم سکھانے کی نہ ختم ہونے والی پیاس سے کریں گے۔ سیکھنے کی پیاس۔ آزادی سے جینے کی پیاس۔"

جمعہ کے روز حملہ آور جو ایک سابق شاگرد ہے اور جس کا بڑا بھائی عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس سے روابط کے الزام میں جیل میں سزا کاٹ رہا ہے، نے چاقو کے وار کر کے برنارڈ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور تین دیگر افراد کو زخمی کر دیا۔

پیر کو بم کے الرٹ کے بعد اساتذہ عمارت سے باہر چلے گئے جن میں سے کچھ رو رہے تھے اور ایک دوسرے کو تھامے ہوئے تھے۔ شاگردوں نے بھی ایسا ہی کیا جو برنارڈ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آئے تھے۔

جیسے ہی پولیس کا بم اسکواڈ پہنچا، اساتذہ اور طلباء اپنے اسکول کے سامنے والی عمارت کے صحن میں جمع ہو گئے۔ تب شہری تحفظ کے اہلکاروں نے انہیں تسلی دی۔

ملک بھر کے اسکولوں میں دن کے آخر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں