سعودی عرب میں ماحولیاتی سیاحت کا بڑھتا ہوا رجحان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مملکت سعودی عرب میں موحول دوست سیاحتی کاروبار ایک بڑھتا ہوا رجحان بن گیا ہے جہاں ایسے ہوٹلوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو متاثر کرنے میں حصہ نہیں ڈالتے۔

ماحول دوست منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے سرمایہ کار سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنی توجہ ان منصوبوں کی طرف مبذول کی ہے جو صارفین کو راغب کرنے اور محصولات کو پائیدار بنیادوں پر بڑھانے کے لیے مواقع میں اضافہ کرتے ہیں۔

مملکت سعودی عرب خطے میں اپنے گرین سیکٹر کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے، جہاں کمرشل بنیادوں ہر مہمان نوازی کے شعبہ کے لیے ماحول دوست اندازکو اپنایا جا رہا ہے اور دن بدن ایسے گرین میگا پراجیکٹس کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے خصوصی طور پر بنائے گئے گرین ہوٹلوں کو طے شدہ ماحول دوست خصوصیات کی سند حاصل ہوتی ہے۔ اس تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ کو حاصل کرنے کے لیے یہ ہوٹل بین الاقوامی سطح پر متعارف کروائے گئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ خصوصی ہوٹل کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور ماحول دوست طرز عمل کو فروغ دیتے ہیں جیسے کہ سبز توانائی کے بھرپور استعمال والی رہائش گاہیں اور بایو ڈیگریڈیبل مواد کا استعمال۔

قابل تجدید توانائی اور پائیدار سرکلر اکانومی کے ریاض میں قائم کئے گئے ادارے کے سربراہ عبدالعزیز المیزانی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت 17 پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے اور ان پر مستقل بنیادوں پر عمل کرنے کے اپنے عزم کی طرف کامیابی حاصل کی ہے۔ جو کہ اقوام متحدہ کی طرف سے تمام ممالک کے لیے ترجیحی بنیادوں پر نافذالعمل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائیدارترقی کے یہ اہداف سیاحت کو فروغ دینے کے منصوبے کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آمد ورفت اور سیاحت کے شعبہ میں پائیداری ترقی کے لیے مروجہ بین الاقوامی معیارات کو پنایا جا رہا ہے جسے گلوبل سسٹین ایبل ٹورازم کائونسل نے طے کیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پائیدار سیاحت کے لیے عالمی سطح ہر کشش کے حامل مرکز کے قیام جیسے اقدامات سے سیاحت کی صنعت کی ترقی اور اسے سعودی عب کے سال 2060 تک صفر کاربن اخراج کے حصول کے ہدف سے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ جو کہ صحیح سمت میں ایک اور انتہائی اہم قدم ہے۔

یہ مرکزمختلف حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اورمالیاتی اداروں اور صنعتی انجمنوں کو اکٹھا کرتا ہے، جس کا مقصد سیاحت کے شعبے میں عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں میں آٹھ فیصد کے اندازے کی شراکت کو کم کرنا اور کاربن کے اخراج کو ختم کرنا ہے۔

المیزانی نے مزید کہا کہ مملکت میں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبہ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری حکومت نے کہ ہے کیونکہ سبز ہوٹلوں کا قیام سعودی عرب کے پائیدار ترقی کے منصوبے کا لازمی حصہ ہے۔

المیزانی نے کہا کہ اگر ہوٹل ماحول دوست خصوصیات کو اپنانا چاہتے ہیں، تو انہیں پلاسٹک کی مصنوعات کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے، سبز نقل و حمل کی سہولیات فراہم کرنا چاہیے، کاغذ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے یا کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کرنا چاہیے، توانائی کی کارکردگی بہتر اور صاف توانائی کے حل کو بڑھانا چاہیے، اور خوراک کے فضلے میں کمی کی پالیسی کا اطلاق کرنا ہو گا۔

المیزانی کا خیال ہے کہ عالمی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے کاروباری مالکان کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب میں پائیدار ترقی کی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے سیاحوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں