صدر میکروں نے فرانسیسی خاتون شہری کو غزہ میں یرغمال بنائے جانے کو ’شرمناک‘ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کے روز فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے حماس کی طرف سے ایک فرانسیسی نژاد اسرائیلی خاتون قیدی کی شائع کردہ ویڈیو ریکارڈنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے "شرمناک" قرار دیا۔

ایلیسی پیلس نے کہا کہ جمہوریہ کے صدر کو فرانسیسی اسرائیلی شہری میا شیم کے ویڈیو کلپ کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا جس پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔

اےایف پی کے مطابق صدر میکروں نے یرغمال بنائی گئی خاتون کو فوری طور پر اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "فرانس چوکس ہے اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر حماس کے زیر حراست فرانسیسی یرغمالیوں کو رہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

میری بیٹی کو رہا کرو: قیدی کی ماں

دوسری طرف قیدی خاتون کی ماں نے "عالمی رہ نماؤں سے اپنی بیٹی کو رہا کرانے کا مطالبہ کیا۔ کیرن شیم نے تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "میں عالمی رہ نماؤں سے کہتی ہوں کہ وہ میری بیٹی کو اس حالت میں واپس کریں جس میں وہ آج ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دیگر یرغمالیوں کو بھی رہا کرایا جائے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں دنیا سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ میری بیٹی کو مجھے واپس دلائے‘‘۔

اتوار کے روز فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے "ان خاندانوں سے بات کی جن کے رشتہ داروں کو مارا گیا یا اغوا کیا گیا۔

دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے پیر کو اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی تعداد 199 تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری طرف حماس کے عسکری ونگ نے پیر کی شام کہا کہ ان کے پاس 200 اور 250 کے درمیان اسرائیلی قیدی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں