مصر میں امدادی قافلے غزہ سرحدی گذرگاہ کی طرف روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امدادی اہلکاروں نے بتایا کہ امدادی سامان کے قافلے جو مصر میں کئی دنوں سے انتظار کر رہے تھے، منگل کو غزہ کی محصور پٹی کے ساتھ رفح سرحدی گذرگاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

غزہ کے انتظامی کنڑول کی حامل تنظیم حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف حملہ کیا جس کے بعد سے بدترین ناکہ بندی کا شکار یہ علاقہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

اب تک مصر نے رفح گذرگاہ کو بند رکھا ہے تاکہ اندر داخل ہونے والے یا پٹی سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی مدد کی جا سکے کیونکہ اسرائیل بار ہا گذرگاہ کے فلسطینی حصے پر حملہ کر چکا ہے۔

مرسل نامی امدادی گروپ کی نگران حباء رشید نے کہا کہ "ہم ٹرمینل پر پہنچ چکے ہیں اور اب اگلے مرحلے کا انتظار ہے۔"

دیگر امدادی اہلکاروں نے بتایا کہ مصری شہر العریش سے رفح تک 40 کلومیٹر (25 میل) کے سفر کے لیے مزید سینکڑوں لاریاں ساحلی سڑک کے ساتھ رواں تھیں۔

ہلالِ احمر کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ امدادی قافلے منقسم سرحدی شہر رفح کی مصری سمت میں جمع ہو رہے تھے۔

مصری ہلالِ احمر کے اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ نہیں بتایا گیا کہ گذرگاہ کو کب عبور کرنا ہے لیکن ہمیں رفح کی طرف جانے کے لیے کہا گیا۔"

اہلکار نے کہا جو خود رفح کی طرف جا رہا تھا۔ "آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم امداد کے داخلے اور غیر ملکیوں کے اخراج کے ایک معاہدے کے قریب ہیں۔"

اسرائیلی فوج نے اپنی تباہ کن بمباری کا آغاز اس وقت کیا جب حماس نے قلعہ بند سرحدی باڑ کو توڑ کر 1,400 سے زیادہ افراد کو گولی مار کر، چاقو کے وار کر کے اور جلا کر ہلاک کر دیا۔

علاقے میں صحت کے حکام کے مطابق جوابی کارروائیوں میں غزہ میں کم از کم 2,750 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دونوں طرف کے ہلاک شدگان زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں ایک محفوظ راہداری قائم کرنے کی بڑھتی ہوئی اپیلوں کے جلو میں مصر کے جزیرہ نما سیناء میں گذشتہ چند دنوں سے متعدد ایجنسیوں اور عطیہ دینے والی کی حکومتوں کی جانب سے امداد کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔

یورپی یونین نے غزہ کے 2.4 ملین لوگوں کے لیے ایک امدادی پل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے بہت سے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

دس دنوں کے توپ خانے کی بمباری اور فضائی حملوں کے دوران اسرائیلی فوج نے رفح گذرگاہ کو چار بار نشانہ بنایا جس کی وجہ سے حکام اسے بڑے پیمانے پر بند رکھنے پر مجبور ہو گئے۔

اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ مصر پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی امریکیوں کو انخلاء کی اجازت دینے کے لیے سرحد کو دوبارہ کھولے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ مارٹن گریفتھس معاہدے کی کوششوں میں مدد کے لیے منگل کو قاہرہ پہنچنے والے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں