برلن کی یہودی عبادت گاہ پر پیٹرول بم حملے کی کوشش، کوئی نقصان نہیں: پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بدھ کے اوائل میں برلن میں ایک یہودی عبادت گاہ پر دو پیٹرول بم پھینکے گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب چانسلر اولاف شولز نے جرمن سرزمین پر یہود دشمنی سے لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔

حملے میں کسی شخص کے زخمی ہونے یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:45 پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا، "دو نامعلوم افراد پیدل آئے اور انہوں نے مائع سے بھری دو جلتی ہوئی بوتلیں بروننسٹراس پر عبادت گاہ کی سمت پھینک دیں۔" جو ایک تجارتی اور رہائشی گلی ہے۔

"بوتلیں فرش پر گر کر ٹوٹ گئیں جس سے آگ بجھ گئی۔"

جب نقاب پوش حملہ آور بھاگے تو عبادت گاہ کے باہر چوبیس گھنٹے تعینات سکیورٹی فورسز نے اس جگہ ایک "ہلکی سی آگ" دیکھی جہاں حملہ آور کھڑے تھے اور اسے بجھانے میں کامیاب رہے جس سے مزید نقصان سے بچ گئے۔

اس کے بعد جب پولیس صبح 8 بجے کے قریب تفتیش کر رہی تھی، تو ایک 30 سالہ شخص ای-اسکوٹر پر عبادت گاہ کے باہر رکا اور عمارت کے قریب جانے کی کوشش کی۔

جب پولیس اسے روکنے کے لیے آگے بڑھی تو اس نے مزاحمت کی اور اسرائیل مخالف نعرے لگانے لگا۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے اس شخص کو موقع پر رہا کر دیا لیکن اس کے خلاف نسلی منافرت کو ہوا دینے اور ایک افسر پر حملے کی کوشش کے الزام کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

جرمن چانسلر شولز نے اس واقعہ کا ذکر کئے بغیر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر یہود مخالف نفرت کی مذمت کرتے ہوئے پیغام پوسٹ کیا کہ "یہودی اداروں کے خلاف حملے، ہماری سڑکوں پر پرتشدد فسادات؛ یہ غیر انسانی، نفرت انگیز عمل ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "جرمنی میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بالخصوص اس صورت حال میں میں سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں