فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کو اسرائیل مغربی کنارے کے لیے مثال بنا لے گا: السیسی

رفح کو مصر نے بند نہیں کیا ، اسرائیلی بمباری امدادی کارروائی میں رکاوٹ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے صدر السیسی نے پہلی بار بہت کھل کر صحرائے سینا میں فلسطینیوں کو اسرائیل کی طرف سے لاکھوں کی تعداد میں جبرا ً دھکیلے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس میں کامیاب ہو گیا تو پھر اسے ایک مثال بنا کر مغربی کنارے کے فلسطیینیوں کو اردن کی طرف جبراً دھکیل کر ان سے مغربی کنارا خالی کرانا چاہے گا۔

وہ میڈیا سے اسرائیل کی مسلسل بمباری سے پیدا شدہ صورت حال پر بات کر رہے تھے۔ صدر السیسی اس سے پہلے بھی فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر نکالنے کی اصولی مخالفت کر چکے ہیں۔ مگر اب انہوں نے زیادہ کھلے لفظوں سے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کیا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ کو اس طرح خالی کرا لینا فلسطینی آزاد ریاست کو اکھاڑ پھینکنا ہو گا۔

مصری صدر نے مزید کہا ' میں فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کے جواز کے خلاف مصری عوام کو باہر نکلنے کے لیے بھی کہہ سکتا ہوں ، جس کے نتیجے میں میڈیا کو لاکھوں لوگ مصر کی گلیوں میں نظر آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر السیسی نے کہا اسرائیل کی طرف سے متواتر ہونے والی بمباری نے رفح سے آنے جانے والے افراد کو روک رکھا ہے اور غزہ کے لیے امدادی کا بھی ممکن نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مصر کی طرف سے رفح راہداری کو بند نہیں کیا گیا ہے۔اب بھی مصر کے کی جانب سے غزہ کے لیے امداد لے کر جانے والے قافلے پچھلے چھ دنوں سے اسرائیلی بمباری کی وجہ سے رفح کے باہر کھڑے ہیں۔ کیونکہ سات اکتوبر سے اسرائیل بار بار بمباری کر رہا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں