چین کے صدر شی اور مصری وزیراعظم کی بیجنگ میں ملاقات

مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے چین مصر کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہے۔ صدر شی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چین کے صدر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام لانے کے لیے چین مصر کے ساتھ کام کرنے کی امید رکھتا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل حماس تصادم کے سائے پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔

چینی صدر شی نے اس امر کا اظہار مصری وزیر اعظم کے ساتھ بیجنگ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے مصر کو ' برکس ' میں شامل ہونے پر اسے مبارکباد دی اور توقع ظاہر کی مصر کے نئے آئیڈیاز 'برکس ' کے لیے مفید ہوں گے۔

واضح رہے مشرق وسطیٰ کے ملکوں اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کے ساتھ ساتھ چین اور مصر بھی حالیہ مہینوں کے دوران باہم قریب آئے ہیں۔

صدر شی نے مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی کے ساتھ بیجنگ میں ملاقات کی اور کہا ' ان کا ملک قاہرہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کو تیار ہے۔ جس کے نتیجے میں دنیا میں مزید استحکام آئے گا اور بے یقینی میں کمی آئے گی۔ '

چینی رہنما کا کہنا تھا کہ چین اور مصر اچھے دوست ہیں اور باہمی طور پر مشترکہ اہداف رکھتے ہیں۔ ایسے اچھے شراکت دار جو ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کام کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ' اس وقت عالمی اور علاقائی سطح پیچیدہ صورت حال اور تبدیلیوں کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے ایسی تبدیلی کو اپنے تجربے میں لا رہی ہے جو ایک صدی تک نہیں دیکھی گئی تھی۔'

انہوں نے مصر کے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں یہ بھی کہا ' چین مصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کو بھی تیار ہے۔ تاکہ دنیا میں انصاف لایا جاسکے اور ترقی پذیر ملکوں کے مفادات کا بھی تحفظ ہو سکے۔ '

واضح رہے جب سے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور اسرائیل کے درمیان تصادم کی فضا میں شدت آئی ہے مصر نے زیادہ تر وقت کے لیے غزہ کے ساتھ اپنی سرحد بند رکھی ہے۔ اسی سرحد کے راستے رفح راہداری سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جایا جا سکتا ہے۔ تاہم قاہرہ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے پائیدار راستہ دے گا۔

ادھر چین اور مصر کے درمیان حالیہ چند مہینوں میں دو طرفہ تعلقات میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ مصر اگلے سال سے ' برکس ' کا باقاعدہ ممبر بننے کا خواہش مند ہے۔ چینی صدر نے اس سلسلے میں مصری وزیر اعظم کو مبارکباد دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں