اعلیٰ امریکی سفارت کار کا اپنے عملے پر شرقِ اوسط کے بحران کے اثر کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اسرائیل-حماس جنگ کے اس جذباتی اثر کو تسلیم کیا ہے جس نے امریکی سفارت کاروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اس تنازعے سے نمٹنے پر واشنگٹن کے اندرونی اختلاف کی میڈیا رپورٹس کے درمیان ہوا ہے۔

بلنکن نے جمعرات کی رات محکمۂ خارجہ کے تمام ملازمین کو ایک خط بھیجا جس میں امریکی سفارتی کور کو متأثر کرنے والے "چیلنجنگ" حالات تحریر کیے گئے ہیں۔ ان ملازمین میں سے کچھ تنازعہ سے پیدا ہونے والی "خوف اور تعصب کی لہروں" کو محسوس کرتے ہیں۔

صدر جو بائیڈن اور بلنکن سمیت امریکی رہنماؤں نے اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا ہے جس میں 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے حماس کے غیر متوقع حملے پر ملک کی طرف سے انتقامی کارروائی پر عوامی طور پر خوشی کا اظہار کیا ہے جس میں پرہجوم انکلیو پر مسلسل بمباری کی مہم بھی شامل ہے۔

کم از کم محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار نے تنازعہ کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ کے نقطۂ نظر کی حمایت چھوڑ دی ہے۔ اہلکار جوش پال نے لنکڈ اِن پلیٹ فارم پر کہا کہ انہوں نے "اسرائیل کے لیے ہماری مسلسل مہلک امداد سے متعلق پالیسی اختلاف" کی بنا پر چھوڑ دیا ہے۔

اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے کہا کہ بلنکن کا خط محکمہ کے اندر مایوسی کی اطلاعات کا جواب نہیں تھا۔

اپنے خط میں بلنکن نے شرقِ اوسط کے حالیہ سفر کا ذکر کیا جس میں انہیں اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تیزی سے سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا اور انہوں نے بعض ممالک کا کئی بار دورہ کیا۔

"میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ وقت نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر بلکہ ذاتی طور پر بھی مشکل رہا ہے۔" انہوں نے خط میں لکھا جو اے ایف پی کو حاصل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس تنازعہ میں ہر معصوم جان کے ضیاع پر غمزدہ ہے۔

انہوں نے "قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی انسانی معیارات" کا احترام کرنے کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا۔ "یہی وجہ ہے کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ یہ کیسے اہمیت رکھتا ہے جبکہ ہم اسرائیل کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔"

بلنکن نے لکھا، "آئیے، اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ بحث اور اختلاف کے لیے اس جگہ کو برقرار رکھا اور بڑھایا جائے جو ہماری پالیسیوں اور ہمارے ادارے کو بہتر بنائے۔"

"ہمیں ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے۔ زیادہ ہنگامہ آرائی اور جھگڑے کا خطرہ حقیقی ہے۔"

اس ہفتے ہفنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا کہ محکمۂ خارجہ کے ملازمین تنازعات کے حوالے سے امریکی پالیسی سے ناخوش تھے جن میں سے ایک نے ادارے کو بتایا کہ (محکمۂ خارجہ) کے کام میں "بغاوت" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں