فلسطین اسرائیل تنازع

لندن میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، ایک لاکھ مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے، غزہ کا محاصرہ اور بمباری ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لندن میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ یہ مظاہرہ سنٹرل لندن میں میں ہفتے کے روز کیا گیا۔ مظاہرین غزہ میں فوری جنگ بندی اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جبکہ مظاہرین فلسطین کی آزادی کے حق میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر تحریر تھا فلسطین کو آزادی دو۔ مظاہرین نے ڈاوننگ سٹریٹ میں وزیراعظم رشی سوناک کی سرکاری رہائش کے باہر جمع ہونے سے پہلے لندن بھر میں مارچ کیا۔

لندن پولیس کے اندازے کے مطابق فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکلنے والے ان مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ مظاہرے کو قومی مارچ برائے فلسطین کا نام دیا گیا تھا۔

مظاہرین کے ہاتھوں میں موجود بینرز اور کتبوں پر اسرائیل کے خلاف اور اسرائیلی مذمت پر مبنی نعرے بھی درج تھے، جبکہ کئی مظاہرین نے برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک اور امریکی صدر جوبائیڈن کی تصاویر والے بینر اٹھا رکھے تھے جن کا مقصد ان کی اسرائیل کے حق میں پالیسیوں پر احتجاج کرنا تھا۔

مظاہرے میں شریک ایک خاتون نے کہا 'ایک فلسطینی کے طور پر ہم چاہتے ہیں ہم بھی ایک دن اپنے گھر واپس جائیں گے، ایک فلسطینی کے طور پر غزہ میں ہمارے بہن بھائی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ فلسطین کے لیے کچھ زیادہ کریں مگر احتجاج ایسی چیز ہے جو ہم منٹوں میں کر سکتے ہیں۔'

کئی مطاہرین نے اسرائیلی مذمت پر مبنی بڑے سخت نعرے لکھے ہوئے تھے۔ جبکہ ایک نے بینر پر سوناک، نیتن یاہو اور جو بائیڈن کی تصاویر بنا کر نیچے لکھا ہوا تھا جنگی جرائم میں مطلوب' ہیں۔

دوسری جانب لندن پولیس نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھی کہ حماس برطانیہ کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم ہے اس لیے اگر کوئی اس کے حق میں نعرے لگائے گا تو اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر کسی نے نفرت انگیزی کی تو اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں