مشرق وسطیٰ کی صورت حال: امریکی سینیٹرز کا مشترکہ وفد سعودی عرب پہنچ گیا

سعودی عرب اور اسرائیل میں 'نارملائزیشن' کے مضبوط حامی لنڈسے گراہم وفد کے قائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سینیٹرز کا ایک گروپ مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کے پیش نظر سعودی عرب پہنچ گیا ہے۔ سینیٹروں کے گروپ میں ڈیمو کریٹس اور ری پبلکن دونوں کے نمائندے شامل ہونے کے علاوہ صدر جو بائیڈن کے مقرب خاص اور سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین بھی شامل ہیں۔

سینیٹرز اس خطرے کے بعد سعودی عرب پہنچے ہیں کہ غزہ کی لڑائی پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ سینیٹرز کے اس گروپ کی قیادت ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کر رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی اس ہنگامی صورت حال میں سعودی عرب پہنچنے والے امریکی قانون سازوں میں رچرڈ بلومینتھل، کوری بکر، کیٹی برٹ، بین کارڈن، سوسن کولنز، کرس کونز، جیک ریڈ، ڈین سلیوان اور جان تھون بھی شامل ہیں۔

لنڈسے گراہم کے دفتر کا کہنا ہے وفد کا ہدف امریکہ اور سعودی عرب کی خطے میں استحکام اور امن کے لیے مشترکہ دلچسپی ہے۔ تاکہ خطے کی ترقی و خوشحالی کا سفر آگے بڑھتا رہے۔ اسی تناظر میں سعودی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال مقصود ہے تاکہ خطے اور عالمی سطح پرگزہ میں جاری جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔

گراہم کے دفتر کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا خطے کے پر امن اور خوشحال مستقبل کے لیے کردار رکھتا ہے۔

واضح رہے غزہ کے بارے میں امریکہ اور سعودی عرب کے موقف میں فرق ہے، سعودی عرب چاہتا ہے کہ غزہ میں شہریوں کو ٹارگٹ کر کی جانے والی بمباری فوری روکی جائے۔ جبکہ امریکہ کا موقف اس کے برعکس یہ ہے کہ اسرائیل کو ’اپنے دفاع‘ کی ہر طریقے سے کی جانے والی کارروائی کا حق حاصل ہے۔

تاہم امریکی جو بائیڈن انتطامیہ نے سات اکتوبر سے جاری اس تباہ کن بمباری کے بعد اب اپنی توجہ قدرے اس جانب بھی کی ہے کہ فلسطینی نہتے شہریوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ جو حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کے بعد نشانہ بن رہے ہیں۔

اب لہجے میں قدرے تبدیل یہ آئی ہے کہ اسرائیل کا جو اقدام بھی ہو وہ انسانی پہلوؤں کا خیال رکھنے والے بین الاقوامی قوانین کو سامنے رکھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔

لنڈسے گراہم جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی نارملائزیشن کے مضبوط حامی ہیں۔

اس منظر نامے میں سفارتی کوششیں باہم قریب آنے کا موقع پیدا کر سکتی ہیں۔ جیسا کہ محمد بن سلمان نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھی پچھلے ماہ کہا تھا۔

سعودی عرب کا نارملائزیشن کے لیے مسلسل موقف یہ رہا ہے کہ ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو قائم کرنا ضروری ہے۔

لیکن نتن یاہو کا موقف بالکل ہی دوسری انتہا پر ہے۔ انتہائی دائیں بازوں کی یہودی تنظیموں کے ساتھ حکومت بنانے کے بعد اسرائیل نے ایک ایسا نقشہ جاری کیا ہے جس میں فلسطینی ریاست کا کوئی نشان ہی نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں