اسرائیلی فضائی حملوں میں دمشق، حلب کے ہوائی اڈے ناکارہ ہو گئے: سرکاری میڈیا شام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے سرکاری میڈیا نے ایک فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں جنگ زدہ ملک کے دو اہم ہوائی اڈوں کے ناکارہ ہو جانے کی اطلاع دی جبکہ وزارتِ نقل و حمل نے کہا کہ پروازوں کو اللاذقیہ کی جانب موڑ دیا گیا۔

جبکہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے دارالحکومت دمشق اور شمالی شہر حلب میں حکومت کے زیرِ قبضہ ہوائی اڈوں پر پروازوں کو بار بار اتار لیا گیا ہے تو یہ دوسرا واقعہ ہے کہ بیک وقت تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ شروع ہوا ہے۔

ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے ذریعہ جاری کردہ بیان میں کہا۔ "صبح 5:25 (جی ایم ٹی 0225) کے قریب اسرائیلی دشمن نے ایک ہوائی حملے میں دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دمشق کے ہوائی اڈے پر ایک شہری ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔"

بیان میں مزید کہا گیا، "ایئرپورٹس کے رن ویز کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے وہ ناکارہ ہو گئے۔" وزارتِ نقل و حمل نے کہا کہ پروازوں کا رخ اللاذقیہ ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔

بیان کے مطابق فوجی ذریعے نے کہا کہ "بیک وقت" حملے" اللاذقیہ کے مغرب میں بحیرۂ روم کی سمت اور مقبوضہ شامی گولان کی سمت سے" ہوئے۔

شام نے اس وقت کہا کہ 12 اکتوبر کو بیک وقت حملوں نے دمشق اور حلب دونوں ہوائی اڈوں کو سروس سے محروم کر دیا۔

ایک جنگی مانیٹر نے رپورٹ کیا کہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی حملوں نے حلب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے اور حکام کے مطابق یہ سروس سے محروم ہو گیا۔

شام میں ایک عشرے سے زیادہ کی جنگ کے دوران اسرائیل نے اپنے شمالی ہمسایہ پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر ایران کی حمایت یافتہ افواج اور لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ شامی فوج کی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

شام پر کیے گئے انفرادی حملوں پر اسرائیل شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی اور اپنے سخت دشمن ایران کو وہاں موجودگی بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں