امریکا کی ایران کو وارننگ دینے اور اسرائیل کی حمایت میں قراردادسلامتی کونسل میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ آج اتوار کو اپنے 16ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد پیش کیا ہے جس میں اسرائیل کو اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی وفادار ملیشیاؤں اور گروہوں کو ہتھیاروں کی برآمد بند کرے جو پورے خطے میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

کل ہفتے کو پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے طور پر زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسودے میں "دہشت گردانہ حملوں" کا جواب دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا اور غزہ کی پٹی میں مسلسل، مناسب طریقے سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے امداد کے داخلے پر زور دیا گیا ہے۔

قرارداد میں جنگ بندی کا مطالبہ شامل نہیں

تاہم قرارداد کے مسودے میں غزہ جنگ میں کسی وقفےیا جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ "غزہ میں تشدد کے پھیلاؤ کو روکنے یا اسے خطے کے دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے حزب اللہ اور دیگر مسلح گروپوں سے فوری طور پر تمام حملے بند کرنے کا مطالبہ کریں"۔

انہوں نے ایران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان گروہوں کو ہتھیاروں کی برآمدات بند کرے جو حماس سمیت پورے خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

لیکن یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا امریکا اس قرارداد کے مسودے پر رائے شماری کا ارادہ رکھتا ہےیا نہیں۔

یاد رہے کہ قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم نو ووٹوں کی حمایت درکار ہوتی ہے اور روس، چین، امریکا، فرانس یا برطانیہ اپنا ویٹو پاور استعمال کرسکتے ہیں جس سے کوئی بھی قرارداد ناکام ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں