غزہ ہسپتال پر بمباری کے بعد بھارتی کمپنی نے اسرائیلی پولیس کی وردی بنانا بند کر دی

سالانہ اوسطاً ایک لاکھ یونیفارم تیار کرنے والی کمپنی 2015 سے اسرائیلی پولیس کے لیے کام کر رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملبوسات تیار کرنے والی ایک ہندوستانی کمپنی جو اسرائیلی پولیس کو سالانہ دسیوں ہزار یونیفارم فراہم کرتی تھی، نے غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے مہلک حملے کے تناظر میں فورس کے مزید آرڈر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جنوبی ریاست کیرالہ کے کنّور ضلع میں میریان اپیرل پرائیویٹ لمیٹڈ 2015 سے اسرائیلی پولیس افسران کے لیے ملبوسات فراہم کر رہی ہے۔ لیکن اس ہفتے اس نے گاہک سے تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی کے ڈائریکٹر تھامس اولیکل نے ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا، "معصوم عام لوگوں کا قتل اس کی وجہ ہے۔"

کمپنی نے اس فیصلے کا اعلان وسطی غزہ کے الاہلی العربی ہسپتال پر بمباری کے بعد کیا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھے تھے۔ دنیا کے بیشتر ممالک نے اس بمباری کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے اگرچہ اس نے ذمہ داری سے انکار کر دیا ہے۔ متأثرین میں مریض اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو روزانہ اسرائیلی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے صحن میں پناہ لیے ہوئے تھے۔

اولیکل نے کہا، "ہسپتال پر حملے اور 500 بے گناہ لوگوں کی ہلاکت نے واقعی ہمیں پریشان کر دیا ہے۔ میں بچوں اور عورتوں کی پریشان کن تصاویر نہیں دیکھ سکتا جو تکلیف سے رو رہے ہوں اور جن کے پاس دوا اور خوراک نہ ہو۔"

خیال ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک تقریباً 4,400 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جب تل ابیب نے غزہ میں مقیم عسکریت پسند گروپ حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد گنجان آباد فلسطینی علاقے پر بمباری شروع کی تھی۔

2.3 ملین افراد پر مشتمل انکلیو کی ناکہ بندی کو مزید شدید کرتے ہوئے اسرائیل نے غزہ کو بجلی، پانی، خوراک، ایندھن اور ادویات کی فراہمی بھی منقطع کر دی ہے۔

میریان اپیریل جس میں 1,500 افراد کام کرتے ہیں، پیٹرولیم ریفائنری کے کارکنان کے لیے آگ سے بچانے والے کپڑوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے طبی اسکربس اور سکیورٹی فورسز کے ملبوسات میں خصوصیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب میں فائر فائٹرز اور ہسپتال، قطر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امریکہ اور برطانیہ میں سکیورٹی کمپنیاں اس کے صارفین میں شامل ہیں۔

کمپنی نے اسرائیلیوں کو ایک سال میں تقریباً 100,000 یونیفارم فراہم کیے تھے اور مزید آرڈرز کو مسترد کرنے سے اس کی کارروائیوں کو دھچکا لگ سکتا ہے لیکن اولیکل اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے کارکنان جن میں 90 فیصد خواتین ہیں، بھی انہی جیسے خیالات رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "تمام ملازمین نے دل سے میرا ساتھ دیا۔ جب عام لوگ مارے جائیں تو ہمیں ایک مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہے۔ معصوم لوگوں کے مصائب کے مقابلے میں مالی مشکلات کچھ نہیں ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں