قاھرہ کانفرنس: انسانی بنیادوں پر غزہ راہداری کھولی جائے: فرانس، پرسکون رہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ امن کانفرنس میں شرکت کی۔ ہفتہ کو غزہ کی صورت حال پر بات چیت کے لیے منعقد کانفرنس میں 7 اکتوبر کو حماس کے اچانک اسرائیل پر حملے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری سے پیدا ہونے والی صورت حال پر گفتگو کی گئی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کیتھرین کولونا نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں شہریوں تک امداد پہنچانے کے لیے ایک انسانی راہداری قائم کرنے کی ضرورت ہے جس سے جنگ بندی ہو سکتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے اعلان کیا کہ انھوں نے اسرائیلی حکومت سے بات کی ہے کہ غزہ میں شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے اسے بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود میں نے اسرائیلی فوج سے نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور ضبط نفس کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیربوک نے کانفرنس میں اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ حماس کے خلاف جنگ فلسطینیوں کے خلاف شمار نہیں کی جانی چاہیے۔ غزہ کی انسانی صورت حال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا جانا چاہیے ورنہ یہ صورت حال حماس کے حق میں جائے گی۔

انالینا بیربوک نے مزید کہا کہ حماس اور اس کے سپانسرز کا مقصد مزید علاقائی کشیدگی کا باعث بننا ہے۔ اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

غزہ میں فلسطینی مائیں اور باپ اپنے بچوں کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ دہشت گردی کی زبان نہیں بول رہے۔ حماس کے خلاف جنگ کو بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کی انسانی صورت حال کے لیے ممکنہ حد تک تشویش کے ساتھ چلانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں