ممتاز ایرانی فلمی ہدایت کار مہر جوئی اور اہلیہ کے قتل میں سابق مالی ملوث نکلا

حکام کے مطابق داریوش مہرجوئی کو ہفتے کی شام ان کی اہلیہ کے ہمراہ تہران کے قریب گھر میں چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کے ممتاز فلم ڈائریکٹر داریوش مہر جوئی اور ان کی اہلیہ واحدہ محمدیفر کے دوہرے قتل میں اب تک کی تفتیش کے مطابق سابق گھریلو ملازم ملوث ہے۔ یہ بات ایرانی عدالت نے پیر کے روز بتائی ہے۔

83 سالہ مہر جوئی ممتاز فلم ڈائریکٹر اور اور ان کی 54 سالہ اہلیہ سکرین رائٹر تھیں۔ ان دونوں کو اسی 14 اکتوبر کو ان کے گھر کے اندر مبینہ طور پر خنجر کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

عدالت کے جج حسین فاضلی ہاری کنڈی نے اب تک کی تحقیقات کو بیان کرتے ہوئے کہا قاتل اور مقتولین ایک دوسرے سے واقف تھے۔

مرکزی ملزم ایک مالی تھا ،جو ماضی میں مہر جوئی کے گھر میں ملازمت کر چکا تھا۔ اسے مالی لین دین کے حوالے سے مقتولین پر غصہ تھا۔'

میڈیا رپورٹس کے مطابق مہر جوئی اور بیگم مہر جوئی کے قتل کے الزام میں دس افراد گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں سے چار قتل میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ' ایرنا ' نے اس دوہرے قتل کے حوالے سے فوٹیجز رپورٹ کی ہیں۔ جن میں کرائم سین دیکھا جا سکتا ہے۔ اس فوٹیج کے مطابق فلم ڈائریکٹر مہر جوئی صوفے پر بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ حملہ آور پہنچ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں