فلسطینیوں کی حمایت کی پاداش میں مصری نوجوان کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کی گئی جنگ کے دوران اسرائیل کو مغرب کی اندھی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف مغرب میں رہنے والے فلسطینیوں کے حامی لوگوں کےلیے بھی فرنگیوں کی سرزمین تنگ ہو رہی ہے۔

فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی نا انصافیوں پر آواز اٹھانے کی پاداش میں مسلمانوں اور عرب شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں سامنےآ رہی ہیں۔

ایسا ہی ایک وقعہ فرانس میں مقیم مصری طالب علم کریم قبانی کا ہے جس نے سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کی حمایت کی تو اس کی پاداش میں اسے نوکری سے نکال دیا گیا۔

چند روز قبل ایک مصری تیراک کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے اورغزہ کی حمایت کی وجہ سے انٹرنیشنل سوئمنگ فیڈریشن سے اس کی تصاویر ڈیلیٹ کرنے کے چند دن بعد فرانس میں مقیم کریم قبانی کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کی حمایت میں ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنے کے الزام میں نوکری سے برطرف کردیا گیا۔

مصری نوجوان کریم قبانی جو فرانس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ساتھ ہی پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں نے بتایا کہ ان کا ساتھی ان کے ساتھ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ان کے ذاتی اکاؤنٹ پر ویڈیوز پوسٹ کرنے اور فلسطینیوں کے لیے ان کی حمایت کی وجہ پر بات کر رہا تھا اور انھیں "دہشت گرد" قرار دے رہا تھا۔

اس نے اسے جواب دیا کہ وہ متاثرین ہیں نہ کہ دہشت گرد۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی نے مجھے کہا کہ آپ ایسا سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس نے اسرائیلیوں کی کھل کر حمایت کی اور میرے خلاف فلسطینیوں کی حمایت کی شکایت کرکے مجھے نوکری سے نکوا دیا۔

نوجوان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے دوران وضاحت کی کہ اس کے ساتھی نے اسے بتایا کہ اس کی ویڈیوز متنازعہ اور غصے سے بھری ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے دوران جس میں اس نے مسئلہ فلسطین کی تفصیلات اور بیانیہ بیان کرنے کی کوشش کی، اس کا منیجر اندر داخل ہوا۔ اس نے سرزنش کی اور ان سے پوچھا کہ وہ باتوں میں کیوں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہ اس کے ساتھی نے منیجر کو بتایا کہ کریم فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔

مصری نوجوان نے مزید کہا کہ اس کے منیجر نے اسے بتایا کہ فلسطینی مسئلے کے بارے میں اس کی ویڈیوز صارفین کی ناراضی کا باعث بن رہی ہیں اور درست نہیں ہیں۔

اس نے نشاندہی کی کہ اگلے دن جب وہ اپنے کام کی جگہ پر گیا تو انتظامیہ نے اس سے استعفیٰ پر دستخط کرنے کے لیے کہا اور اسے کمپنی سے برطرف کردیا۔

کریم قبانی نے اپنے ساتھ ناانصافی اور جبر کے احساس کا اظہار کیا لیکن اس کے باوجود وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہوا وہ اس ناانصافی اور ظلم کے برابر نہیں ہے جو فلسطینی 75 سال سے برداشت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں